نئی دہلی: وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم کے سات سال مکمل ہونے پر آج کہا کہ یہ اسکیم ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے درمیان انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ 40,710 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ہے ۔ اس مدت کے دوران 1,80,630 سے زیادہ کھاتوں میں رقم تقسیم کی گئی ہے ۔ یہ اسکیم 5 اپریل 2016 کو شروع کی گئی تھی جس کا مقصد نچلی سطح پر کاروباری افراد کو فروغ دینے کے ساتھ معاشی طور پر انہیں بااختیار بناناور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ اس اسکیم میں سال 2025 تک کی توسیع کردی گئی ہے ۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ توانائی سے بھرپور ، پرجوش اور ایس سی /ایس ٹی زمر ے کے لوگوں اور خواتین کاروباریوں کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے میں مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، خواتین اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کیلئے اسٹینڈ اپ انڈیا کا آغاز کیا گیا ہے ۔ یہ اسکیم ایس ٹی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور مینوفیکچرنگ، سروس یا کاروباری شعبے اور زراعت سے متعلق سرگرمیوں سے متعلق گرین فیلڈ انٹرپرائز شروع کرنے میں ان کی مدد کر ے گی۔ سیتا رمن نے کہا ‘‘یہ میرے لیے بڑے فخر اور اطمینان کی بات ہے کہ 1.8 لاکھ سے زیادہ خواتین اور ایس سی/ایس ٹی کاروباریوں کو 40,700 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرضوں کی منظوری دی گئی ہے ۔ سیتا رمن نے کہاکہ اس اسکیم نے ایک ماحولیاتی نظام بنایا ہے جس نے تمام شیڈولڈ کمرشیل بینک برانچوں سے کریڈٹ فلو کے ذریعے گرین فیلڈ انٹرپرائزز کے قیام کیلئے ایک معاون ماحول فراہم کیا ہے اور جاری رکھا ہوا ہے ۔ اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم ایس سی، ایس ٹی اور خواتین کے درمیان انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں ایک اہم کامیابی ثابت ہوئی ہے ۔