ریاست بھر میں 800 سے زائد اسکول بندہوگئے، اسکول انتظامیہ کو مالی موقف کی فکر
حیدرآباد۔26 ۔اگست (سیاست نیوز) حکومت نے یکم ستمبر سے کے جی تا پی جی تعلیمی اداروں کی کشادگی کا فیصلہ کیا ہے لیکن کئی خانگی بجٹ اسکولس اس موقف میں نہیں ہیں کہ وہ موجودہ حالات میں اسکولوں کی کشادگی کے ذریعہ ٹیچرس اور غیر تدریسی عملے کے اخراجات کی پابجائی کرسکیں۔ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن نے بجٹ اسکولوں پر کاری ضرب لگائی ہے جس کے نتیجہ میں سینکڑوںکی تعداد میں اسکولس بند ہوچکے ہیں اور ہزاروں ٹیچرس بیروزگار ہوگئے ۔ حکومت نے کورونا وباء کے قابو میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ یکم ستمبر سے کتنے خانگی بجٹ اسکولس کھل پائیں گے۔ تلنگانہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019-20 ء کے دوران خانگی اسکولوں کی تعداد 11638 تھی جو اندرون ایک سال گھٹ کر 10819 ہوچکی ہے۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں 869 خانگی اسکولس بند ہوگئے۔ یہ تو محض مسلمہ اسکولوں کے اعتبار سے اعداد و شمار ہیں جبکہ غیر مسلمہ بجٹ اسکولوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد کئی ہزار تک پہنچ جائے گی ۔ مسلمہ اسکولوں کے انتظامیہ کی اسوسی ایشن نے اسکولوں کی کشادگی کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کووڈ قواعد کے تحت کلاسس کا آغاز کیا جائے گا ۔ ٹیچرس اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی ٹیکہ اندازی کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔ اسکول انتظامیہ سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ طلبہ سے فیس کی وصولی کے معاملہ میں سخت گیر رویہ سے گریز کریں ۔ حکومت نے تمام خانگی اسکولوں کو پابند کیا ہے کہ وہ صرف ماہانہ اساس پر ٹیوش فیس وصول کریں۔ 20 ماہ کے بعد اسکولوں کی کشادگی نہ صرف انتظامیہ بلکہ خود سرپرستوں کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ حکومت نے طلبہ کی کلاسس میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے آن لائین کلاسس کی گنجائش ختم کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں سب سے زیادہ بجٹ اسکول آصف نگر ، بہادر پورہ اور بنڈلہ گوڑہ منڈلوں میں ہیں۔ بیشتر اسکولس کرایہ کی بلڈنگس میں کام کر رہے ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے کرایہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں۔ بجٹ اسکولوں کی برقراری کا انحصار کلاسس میں طلبہ کی آمد اور فیس کی ادائیگی پر منحصر رہے گا ۔ R