اسکولوں کی کشادگی سے اساتذہ حکومت کی امداد سے محروم ہوجائیں گے

   

ماہانہ 2000 روپئے اور 25 کیلو چاول کی سربراہی اسکیم پر شبہات
حیدرآباد: ریاست میں یکم جولائی سے اسکولوںکی کشادگی کے فیصلہ پر اساتذہ کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اولیائے طلبہ کورونا کی تیسری لہر کے امکانات سے خوفزدہ ہیں اور وہ بچوں کو فزیکل کلاسس کے لئے اسکول روانہ کرنے تیار دکھائی نہیں دیتے جبکہ ٹیچرس کا ماننا ہے کہ حکومت نے جلد بازی میں فیصلہ کرتے ہوئے ٹیچرس کو ماہانہ 2000 روپئے کی امداد اور 25 کیلو چاول کی بچت کرلی ہے۔ حکومت کو اساتذہ کی امداد کے سلسلہ میں تقریباً 120 کروڑ کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ اسکولوں کی کشادگی کے بعد حکومت کا یہ بجٹ محفوظ رہے گا کیونکہ اساتذہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔ اساتذہ کی تنظیموں نے حکومت کے فیصلہ پر سوال اٹھائے اور کہا کہ کسی بھی سرپرست نے فزیکل کلاسس کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ ماہرین تیسری لہر کے اندیشوں کو دیکھتے ہوئے آن لائین کلاسس جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ تلنگانہ مسلمہ اسکولوں کی اسوسی ایشن نے یکم جولائی سے اسکولوںکی کشادگی اور فزیکل کلاسس کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ اس فیصلہ کے پس پردہ حکومت اساتذہ کی امداد سے بچنا چاہتی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت کی جانب سے مسلمہ اسکولوں کے 2.4 لاکھ اساتذہ کو ماہانہ 2000 روپئے کی امداد دی گئی اور 25 کیلو چاول سربراہ کئے گئے ۔ اسوسی ایشن کے مطابق خانگی اسکولوں کے انتظامیہ نے آن لائین کلاسس کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور فزیکل کلاسس کے انعقاد کے سلسلہ میں والدین سے منظوری حاصل کی جائے گی ۔ کئی اسکول انتظامیہ کو فزیکل کلاسس کے آغاز کی صورت میں اساتذہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ خانگی شعبہ کے اساتذہ کورونا وباء کے دوران خدمات انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔