اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافہ

   

کنٹرول کا کوئی میکانزم نہیں ، شکایتوں کے باوجود کوئی اقدامات نہیں
حیدرآباد۔2۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافہ پر کنٹرول کا کوئی میکانزم نہیں ہے!شہر میں تہواروں کے موسم سے عین قبل اشیائے ضروریہ کے ٹھوک تاجرین کی جانب سے قیمتوں میں کئے جانے والے اضافہ پر روک لگانے کے اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ جب کبھی تہواروں کا موسم شروع ہوتا ہے اس سے قبل اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے ان کی قیمتوں میں اضافہ کا یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے جس پر قابو پاتے ہوئے عوام کے ساتھ جاری لوٹ کھسوٹ کو ختم کیا جانا چاہئے۔ اب جبکہ ماہ رمضان المبارک کی آمد کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور مسلمان ماہ رمضان المبارک کے لئے خریداری میں مصروف ہیں اور دوسری جانب ٹھوک تاجرین نے بیشتر اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے جو کہ صارفین کو لوٹنے کے مترادف ہے۔ شہر میں فروخت کئے جانے والے سونا مسوری چاول کی قیمت میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران 400 روپئے فی کنٹل کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جبکہ خوردنی تیل کی قیمت میں 12تا 15 روپئے فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔ اسی طرح مختلف دالوں میں جو ماہ مقدس کے دوران استعمال کی جاتی ہیں ان کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ گذشتہ 15 یوم کے دوران ریکارڈ کیاگیا ہے ۔ تاجرین نے بتایا کہ گذشتہ ماہ سے پھلی کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو اس میں50 روپئے فی کیلو کا اضافہ ہوا ہے اور پھلی کے تیل کے ٹن جو کہ 15کیلو کے ہوتے ہیں ان کی قیمت میں 250 روپئے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔تہواروں کے دوران شکر کے استعمال میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اب 15 دن قبل کی شکر کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو اس میں 10روپئے فی کیلو اضافہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ٹھوک تاجرین کی اس من مانی کو روکنے کے لئے اگر سخت اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس عوامی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری رہے گا اور عوام کی جیب پر عائد ہونے والے اس غیر ضروری بوجھ کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ ریاستی حکومت کے محکمہ اوزان و پیمائش کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے اگر ان اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کے اقدامات کئے جاتے ہیںتو ایسی صورت میں حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ سابق میں حکومتیں تہواروں کے قریب محکمہ سیول سپلائز کے ذریعہ وہ اشیائے ضروریہ کی مفت سربراہی یا کم از کم رعایتی قیمتوں پر فروخت کے انتظامات کیاکرتی تھی لیکن جب سے حکومت نے یہ اقدامات بند کئے ہیں اس کے بعد سے ٹھوک تاجرین نے نہ صرف اجناس کی قیمتوں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اپنا کنٹرول کرتے ہوئے تہواروں کے موقع پر ان کی قیمتوں میں من مانی اضافہ کرتے ہوئے عوام کی جیب کاٹنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے مسلسل شکایات کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔3