اصطلاح ’’ قوم پرستی ‘‘کا انتہائی غلط استعمال :نکھل اڈوانی

   

فلم باٹلہ ہاوز کے موضوع کا بڑے پیمانے پر تحقیق کے بعد انتخاب
ممبئی /28 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) نکھل اڈوانی کیلئے قوم پرستی ایک ورثہ میں ملنے والا احساس ہے ۔ اس کا مطلب ملک سے محبت ہوتا ہے ۔ انہوں نے باٹلا ہاوز کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے کہا کہ اس اصطلاح کا آج کل بہت زیادہ استحصال ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کا میں نے اپنی فلمیوں کے ہدایت کار کی حیثیت سے عوام میں یہ شعور اُجاگر کیا ہے کہ اس کا مطلب اپنے وطن سے محبت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کے بارے میں میرا شخصی نظریہ ساتھ ہی ساتھ یہ ہے کہ اس لفظ کا آج کل بہت زیادہ استحصال ہو رہا ہے ۔ پوری قوم پرستی کا احساس یہی ہوتا ہے کہ اگر آپ کہیں فلم سازی کے دوران کوئی تصحیح کرسکتے ہیں تو کیوں ایسا نہیں کرتے ۔ وہ خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے انہوں نے قوم پرستی کی اصطلاح کے استحصال کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے اگر آپ قوم پرستی کے معنوں کی تصحیح نہ کریں گے تو اس کا استحصال جاری رہے گا ۔ اگر آپ اپنے من مانے معنی اخز کریں گے تو ہر شہری قوم دشمن قرار پائے گا ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دستور ہند آپ کو اپنی مرضی کی آزادی دیتا ہے ۔

اڈوانی کی آئندہ فلم آپریشن باٹلہ ہاوز پر مرکوز ہے جو 2008 میں پیش آیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنا اور ملک میں مسائل پر توجہ مرکوز کرنا بہتر ہوتا ہے ۔ ہم بہت جلد پاکستان کو اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن باٹلہ ہاوز سے واضح ہوگیا ہے کہ مسئلہ ملک کے اندر ہے ۔ ملک کے باہر نہیں ۔ میں اس موضوع پر اس لئے بات چیت کر رہا ہوں کہ ایک بنیادی نظریہ تمام افراد کی برہمی کی وجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سچائی ، شور و غل میں دب رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مصنف رتیش شاہ نے دہلی کے اسلامیہ یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ یونیورسٹی آپریشن کے مقام سے زیادہ قریب ہے ۔ لیکن فلم اڈوانی کی جانب سے بنائی گئی رتیش نے کہا کہ وہ قوم پرستی کی کہانیوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور ملک میں ایسی فلمیں سماجی ۔ سماجی اہمیت رکھتی ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ یہ کارروائی ازخود نہیں ہوئی تھی ۔ کسی نے کہا تھا کہ پولیس کی رسائی اس مقام تک ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع کیلئے منظر نامے کا انتخاب کرنے سے پہلے انہوں نے بہت زیادہ تحقیق کی ہے ۔