اقلیتوں کیلئے صرف وعدے، عمل آوری کچھ نہیں، ایم اے حلیم کانگریس قائد کا الزام
نظام آباد :ایم اے حلیم سینئر قائد کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کے لئے صرف وعدے کئے جارہے ہیں لیکن عمل نہیں کیا جارہا ہے ابھی تک 12% فیصد تحفظا ت کا مسئلہ جوں کا توں ہے شہرنظام آباد میں مالاپلی گرلز جونیئر کالج کی عمارت تعمیر ہوکر تقریباً15 سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن ابھی تک کالج شروع نہیں ہوا جس کی وجہ سے غریب ہونہار مسلم لڑکیاں گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔ اس کالج کو اس سال فوری شروع کیا جائے ۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوچکا ہے لہذا مختلف محکمہ جات میں تقررات کیا جائے ۔ اُردو دوسری سرکاری زبان ہے لیکن اس پر عمل آوری نہیں کی جارہی ہے محکمہ جات کے بورڈوں اور بسوں پر اُردو تحریر کیا جائے اور دفاتر میں اُردو کو یقینی بنایا جائے گورنمنٹ آرڈرس بھی تلگو کے ساتھ اُردو میں جاری کیا جائے ۔ اقلیتی نئی آبادیوں میں اُردو مدارس قائم کیا جائے ودیا والینٹرس کے تقررات کیا جائے تاکہ بے روزگار امیدواروں کو روزگار مل سکے ۔ ہر محکمہ میں اُردو کی عمل آوری کیلئے اُردو آفیسر کا تقرر کیا جائے اُردو اخبارات میں روزگار کے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ۔ سرکاری اسکیمات کو اُردو زبان میں پیش کیا جائے ۔ اُردو کو عملی طور پر دوسری سرکاری زبان بنایاجائے ۔ ایم اے حلیم نے عثمانیہ یونیورسٹی کا قدیم خوبصورت لوگوتبدیل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدیم لوگو کو فوری بحال کیا جائے ۔ لوگوسے کیا دشمنی ہے ؟ اُردو سے دشمنی کیوں ؟ قائم کرنا ہے تو نئی یونیورسٹی قائم کریں ۔ قدیم ناموں کو ہر گز تبدیل نہ کریں ۔ نام تبدیل کرنا کوئی کارنامہ نہیں ہے بلکہ نیا کام خود کریں ۔ دوسروں کو مٹھائی پر فاتحہ کب تک ؟ اضلاع کے نام بھی تبدیل نہ کریں ۔ جوں کا توں رکھیں ۔ اقامتی اسکولس میں مخلوعہ جائیدادوں پر مسلم امیدواروں کا تقرر کیا جائے اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے امام و موذنین کو دئیے جانے والے مشاہرے کو ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ادائیگی عمل میں لایا جائے ۔ ایم اے حلیم نے کہا کہ طلباء و طالبات کیلئے اسکالرشپس کی فی الفور ادائیگی عمل میں لائی جائے ۔