عہدیداروںکو کوئی دلچسپی نہیں، اقلیتی طلبہ کی کوچنگ اور معاشی ترقی سے متعلق کئی امور شامل، کسانوں اور وکلاء کی امداد
حیدرآباد۔3 ۔ستمبر (سیاست نیوز) فلاح و بہبود اور ترقی کے معاملہ میں دلت اور پسماندہ طبقات حکومت کی اولین ترجیح ہوتے ہیں جبکہ اقلیتوں کے حصہ میں صرف وعدے اور اعلانات دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت چاہے کسی پارٹی کی ہو ، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی حالت میں سدھار پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ حکومت نے اقلیتوں کے حق میں جو احکامات جاری کئے گئے ، ان پر عمل آوری تک نہیں ہوئی ہے۔ ہر سال بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے جو رقومات مختص کی جاتی ہیں وہ مکمل طورپر خرچ نہیں ہوپاتی۔ اسکیمات پر عمل آوری کے لئے آخر ذمہ دار کون ہے ۔ اقتدار میں بیٹھے افراد یا پھر سرکاری عہدیدار ؟ ان دنوں حضور آباد ضمنی چناؤ کے پیش نظر دلتوں پر حکومت کی مہربانیاں کچھ زیادہ دکھائی دے رہی ہیں۔ ہر دلت خاندان کے 10 لاکھ روپئے امداد پر مبنی دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا گیا لیکن اقلیتوں کا یہ حال ہے کہ انہیں ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے مساوی مراعات کا اعلان کیا گیا لیکن چیف سکریٹری کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر گزشتہ تین برسوں سے عمل آوری نہیں کی گئی۔ اس معاملہ میں نہ ہی حکومت کو دلچسپی ہے اور نہ ہی بیورو کریسی کو ۔ عام طورپر فنڈس کی عدم اجرائی اور اسکیمات پر عمل آوری میں تاخیر کیلئے عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن عہدیدار تنہا ذمہ دار نہیں ہوتے بلکہ اقتدار میں بیٹھے افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ جوابدہی طلب کریں۔ 13 مارچ 2018 ء کو اس وقت کے چیف سکریٹری ڈاکٹر شیلندر کمار جوشی نے جی او ایم ایس 16 جاری کیا تھا جس میں اقلیتوں کو ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے مساوی 8 مختلف مراعات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن افسوس کہ اس جی او پر گزشتہ تین برسوں کے دوران عمل آوری نہیں کی گئی اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کسی نے اس بارے میں عہدیداروں سے باز پرس کی ۔ اسمبلی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایس سی ، ایس ٹی طبقات کو دستور میں دیئے گئے مراعات سے ہٹ کر موجود مراعات اقلیتوں کو توسیع دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدہ کے مطابق جی او ایم ایس 16جاری کیا گیا ۔ ایس سی ، ایس ٹی کیلئے جو دستوری مراعات ہیں ، ان کے علاوہ کئی ایسے مراعات ہیں جن کے ذریعہ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی ممکن ہوسکتی ہے لیکن جی او میں شامل 8 مختلف امور میں سے ایک پر بھی عمل نہیں کیا گیا ۔ R
ایس سی طبقات کی طرح بیرونی یونیورسٹی میں داخلہ کے حصول کے لئے درکار امتحانات کی اقلیتی طلبہ کو نامور اداروں میں کوچنگ کا فیصلہ کیا گیا جن میں جی آر ای ، جی میٹ ، TOFEL اور IELTS کے امتحانات شامل ہیں۔ جی او کے مطابق ہر سال ایک ہزار اقلیتی طلبہ کو کوچنگ کی فراہمی اور فی کس 25,000 روپئے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایس سی طبقات کے مماثل اقلیتی لا گریجویٹ اور ایڈوکیٹس کو مالی امداد کا فیصلہ کیا گیا ۔ ہر ضلع میں 10 اقلیتی لا گریجویٹس جبکہ حیدرآباد سے 100 لا گریجویٹس کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں تین سال کیلئے ماہانہ اسٹیفنڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اقلیتی امیدواروں کی مختلف کورسس میں ٹریننگ کے لئے حیدرآباد ، ورنگل ، نظام آباد اور محبوب نگر میں اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ۔ ہر سنٹر پر 25 کروڑ روپئے کے خرچ کی گنجائش رکھی گئی ۔ ایس سی طبقات کیلئے سوشیل ویلفیر فنڈ کی طرح میناریٹیز ویلفیر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا جس کے تحت یتیم خانوں ، معذورین ، اولڈ ایج ہوم اور دیگر فلاحی اداروں کو مالی امداد دی جاسکتی ہے۔ صنعتوںکے قیام میں اقلیتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹی پرائم اسکیم متعارف کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ایس سی ، ایس ٹی طبقات کی طرح صنعتوں کے قیام کے لئے مختلف مراعات دی جائیں گی۔ ہر سال 1000 چھوٹے اور متوسط صنعتوں کو سبسیڈی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی۔ ترکاریوں اور پھولوں کی پیداوار میں اقلیتی طبقہ کے چھوٹے کسانوں کو 95 فیصد سبسیڈی کی گنجائش رکھی گئی۔ اراضیات کو کاشت کے قابل بنانے کیلئے لینڈ ڈیولپمنٹ اسکیم پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت ہر سال 1000 اقلیتی کسانوں کا احاطہ کیا جائے گا ۔ جی او میں 8 مراعات پر عمل آوری کے لئے متعلقہ محکمہ جات کو ہدایت دی گئی جن میں زراعت، ہارٹیکلچر، انڈسٹریز اور اقلیتی بہبود شامل ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چار اسکیمات جبکہ زراعت کے تحت تین اسکیمات رکھی گئیں لیکن افسوس یہ تین برس گزرنے کے باوجود آج تک جی او پر عمل نہیں کیا گیا۔ گزشتہ دنوں سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے جی او کی نقل اقلیتی اداروںکو روانہ کرتے ہوئے عمل آوری سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں۔ اقلیتی عوامی نمائندوں اور اقلیتی جماعتوں اور تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جی او ایم ایس 16 پر عمل آوری پر توجہ دیں۔ R