محبوب نگر میں کانگریس مینارٹیز ڈپارٹمنٹ کا اجلاس، شیخ عبداللہ سہیل، مدھوسدن ریڈی اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد: 20 جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے اقلیتی بہبود سے متعلق بی آر ایس حکومت کے دعوئوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ گزشتہ 9 برسوں کے دوران کے سی آر حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو کانگریس کے قریب لانے کے لیے محبوب نگر میں ضلع کانگریس میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے عاملہ کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل، محبوب نگر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر مدھوسدن ریڈی، پردیش کانگریس کے نائب صدر عبید اللہ کوتوال، میناریٹیز ڈپارٹمنٹ محبوب نگر کے صدرنشین ظہیر اختر، خیریت آباد ضلع کے صدرنشین ارحم عادل کے علاوہ محمد حبیب الرحمن، محمود قریشی کے علاوہ مختلف منڈلوں اور ٹائونس کے کے قائدین نے شرکت کی۔ شیخ عبداللہ سہیل نے گھر گھر پہنچ کر بی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اقلیتی بہبود کے بارے میں بی آر ایس قائدین کے دعوے کھوکلے ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے اقلیتی بہبود کے لیے 2014 سے آج تک 9166 کروڑ خرچ کرنے کا دعوی کیا ہے اور یہ رقم تلنگانہ کے مجموعی بجٹ کا محض 0.46 فیصد ہے۔ حکومت نے مسلمانوں آبادی کے اعتبار سے بجٹ منظور نہیں کیا۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 13 تا 14 فیصد ہے جن کے لیے ناکافی رقم مختص کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مختص کردہ بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ رمضان گفٹ اور افطار پارٹی کے سوا حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ شادی مبارک اسکیم جس کے تحت غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے لیے امداد دی جاتی ہے، ہزاروں درخواستیں زیر التوا ہیں یا پھر انہیں مسترد کردیا گیا۔ غریب خاندانوں کو قرض حاصل کرتے ہوئے لڑکیوں کی شادی کرنی پڑرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام کا دعوی کرنے والی حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں سرکاری پرائمری اسکولوں کو بند کردیا ہے۔ حیدرآباد میں اسلامی کلچرل سنٹر اور اجمیر میں رباط کی تعمیر کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ کانگریس قائدین نے اقلیتوں سے گھر گھر پہنچ کر ربط قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہر ضلع میں میناریٹی ڈپارٹمنٹ کی عاملہ کے اجلاس منعقد ہوں گے۔ر