اقلیتوں کی فیس باز ادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپس کی اجرائی میں حکومت ناکام

   

محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداران جواب دینے سے قاصر ، کالج انتظامیہ اور طلبہ کو پریشانی کا سامنا
حیدرآباد۔10۔مئی ۔(سیاست نیوز) ریاستی حکومت اقلیتوں کو فراہم کی جانے والی فیس باز ادائیگی اسکیم کے علاوہ چیف منسٹر اوور سیز اسکالرشپس اسکیم کے تحت جاری کی جانے والی رقومات کی اجرائی میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اس مسئلہ پر کوئی جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتی نوجوانوں کے لئے جاری اسکیمات کے تحت رقومات کی تخصیص کے اعلان کئے گئے اور ان اسکیمات کے تحت وصول کی گئی درخواستوں کی عدم یکسوئی طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔ گذشتہ دو برسوں سے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اسکالر شپس اور فیس بازادائیگی کی رقومات جاری نہ کئے جانے کے سبب کالجس میں طلبہ اور انتظامیہ دونوں کو ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کالج انتظامیہ فیس بازادائیگی کی رقومات کی عدم و صولی کے سبب معاشی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اسی طرح طلبہ کے تعلیمی اسنادات جو کالجس کے پاس جمع ہیں وہ طلبہ ‘ سرپرستوں اور اولیائے طلبہ کے لئے مسئلہ بنے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح سال 2021 میں جن طلبہ کی بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لئے اسکالرشپس کی منظوری عمل میں لاتے ہوئے انتخاب کیا گیا تھا ان طلبہ کی اوورسیز اسکالرشپس بھی اب تک جاری نہیں کی جاسکی ہیں ۔ ریاستی حکومت نے اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اس بات کا تیقن دیا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ اجلاس کے فوری بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے بقایا جات کی اجرائی کے ذریعہ زیر التواء اسکالر شپس کی درخواستوں بالخصوص چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس‘ اور فیس کی باز ادائیگی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن نئے مالی سال کے آغاز کے باوجود گذشتہ دو برسوں کے دوران منظورہ اور مختص کردہ رقومات کی عدم اجرائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کو اقلیتی طبقہ کے مسائل کے حل سے کس قدر دلچسپی ہے !محکمہ اقلیتی بہبود کے منظورہ بجٹ کی عدم اجرائی اور اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو بروقت رقومات کی عدم منتقلی سے اقلیتوں میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور عہدیدار اس مسئلہ پر دریافت کرنے پر کہہ رہے ہیں کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے استفادہ کنندگان کی فہرست تیار کرتے ہوئے منظورہ فہرست محکمہ فینانس کو روانہ کی جاچکی ہے جبکہ محکمہ فینانس کے عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے جب تک ان اسکیمات کے لئے مختص کردہ رقومات کی اجرائی کے احکامات جاری نہیں کئے جاتے اس وقت تک محکمہ فینانس کی جانب سے ان بلوں کو منظور نہیں کیاجاسکتا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو نظرانداز کئے جانے کے سلسلہ میں گذشتہ 4 برسوں سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں اور خود عہدیداراب حکومت کے رویہ سے نالاں ہونے لگے ہیں۔م