مینارٹیز ڈکلیریشن کو قطعیت، ائمہ اور مؤذنین کو 10,000 روپئے اعزازیہ: محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔19۔اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے اقلیتوں کی ترقی کیلئے 5000 کروڑ روپئے کے بجٹ اور ایس سی ، ایس ٹی کی طرح اقلیتوں کے لئے سب پلان کا منصوبہ بنایا ہے ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مینارٹیز ڈکلیریشن کمیٹی کا اجلاس آج صدرنشین کمیٹی محمد علی شبیر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مینارٹیز ڈکلیریشن میں شامل کئے جانے والے امور کو قطعیت دی گئی۔ تقریباً 150 سے زائد تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے ڈکلیریشن تیار کیا گیا ہے ۔ کمیٹی کے صدرنشین محمد علی شبیر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیم اور معاشی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کی تجویز پیش کی جارہی ہے جسے پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل کیا جائے گا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ظفر جاوید (کنوینر) ، سکریٹری اے آئی سی سی منصور علی خاں ، شیخ عبداللہ سہیل ، بی ایزیکل عظمیٰ شاکر ، محمد راشد خاں ، فہیم قریشی ، محمد عظمت اللہ حسینی اور دیگر قائدین نے شرکت کی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 150 سے زائد تنظیموں اور اداروںکی جانب سے تجاویز پیش کی گئیں جن میں 15 بڑی مسلم تنظیمیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈکلیریشن میں مسلمانوں ، عیسائیوں ، جین اور دیگر طبقات کے مسائل کا احاطہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کو بڑھاکر 5000 کروڑ کرنے اور علحدہ سب پلان کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے امدادی رقم میں اضافہ اور مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکنے کیلئے قانون سازی کی تجویز ہے ۔ سابق کانگریس حکومت نے 4 فیصد مسلم تحفظات فراہم کئے جس کے نتیجہ میں لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچا۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں آج بھی 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل کیا جارہا ہے۔ کانگریس نے 56 انجنیئرنگ اور دیگرپیشہ ورانہ کالجس کی منظوری دی تھی جن میں سے 50 بند ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈکلیریشن میں نئے میڈیکل اور انجنیئرنگ کالجس کی منظوری اور خانگی میناریٹی یونیورسٹی کے قیام کی تجویز شامل کی جارہی ہے ۔ کمیٹی کو موصولہ تجاویز پر مبنی ڈکلیریشن صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے حوالے کیا جائے گا جسے منشور میں شامل کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ راہول گاندھی میناریٹیز ڈکلیریشن جاری کریں گے۔ ظفر جاوید نے بتایا کہ کمیٹی کے 6 اجلاس منعقد ہوئے اور جماعت اسلامی ، جمیعۃ علماء ، تعمیر ملت، تحریک مسلم شبان اور دیگرجماعتوں سے مشاورت کی گئی ۔ منصور علی خاں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے ۔ اہل حدیث کے نمائندہ ابراہیم صدیقی نے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی تائید کا اعلان کیا۔ ڈکلیریشن کمیٹی سے ملاقات کرنے والوں میں جمیعۃ علماء کے جنرل سکریٹری پیر صابر احمد ، غوث محی الدین ، برادر ورگیز، محمد سلیم سارا میتھیوز، عثمان الہاجری ، شہریار علی خاں اور دوسرے شامل ہیں۔ میناریٹی ڈکلیریشن کمیٹی ائمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ کو فی کس ماہانہ 10,000 کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ شادی مبارک اسکیم کے تحت 2 لاکھ روپئے کی امداد کی تجویز پیش کی گئی۔