اقلیتی بہبود کیلئے سالانہ 4000 کروڑ کا بجٹ ، علحدہ سب پلان

   

(کانگریس کا تلنگانہ میں انتخابی منشور جاری)
ائمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ، اقلیتی نوجوانوں کیلئے سالانہ ایک ہزار کروڑ بجٹ ، سٹ ون اور قلی قطب شاہ اتھاریٹی کا احیاء، 6 ضمانتوں میں تمام طبقات کی حصہ داری
بی آر ایس حکومت کے کرپشن کے خلاف ہائیکورٹ برسر خدمت جج سے تحقیقات، سرکاری ملازمین اور پنشنرس سے وعدے
حیدرآباد ۔17۔نومبر (سیاست نیوز) صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے آج پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا جس میں تمام طبقات کے ساتھ ترقیاتی اور فلاحی اقدامات سے متعلق وعدوں کی بھرمار کی گئی ہے۔ 42 صفحات پر مشتمل انتخابی منشور میں کے سی آر حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ کالیشورم پراجکٹ میں بدعنوانیوں کی برسر خدمت ہائی کورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کیا گیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، سابق مرکزی وزیر طارق انور ، رکن راجیہ سبھا ناصر حسین ، کے جانا ریڈی ، ڈی سریدھر بابو ، وی ہنمنت راؤ ، مدھو یاشکی گوڑ اور دیگر قائدین کی موجودگی میں انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیت اور خواتین کیلئے مختلف وعدے کئے ہیں۔ منشور میں اقلیتوں ، کسانوں ، نوجوانوں ، ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کیلئے جاری کردہ ڈکلیریشن کو شامل کیا گیا ۔ اس کے علاوہ 6 ضمانتوں کے تحت کئے گئے وعدے بھی شامل ہیں۔ انتخابی منشور میں جملہ 62 امور کو شامل کیا گیا ہے۔ پارٹی نے برسر اقتدار آتے ہی اندرون 6 ماہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی تکمیل اور اقلیتوں کے بشمول تمام پسماندہ طبقات کو تعلیم ، روزگار اور فلاحی اسکیمات میں مناسب حصہ داری کا وعدہ کیا گیا۔ اقلیتی ڈکلیریشن میں کئے گئے وعدے انتخابی منشور کا حصہ ہیں جس میں اقلیتی بہبود کیلئے سالانہ 4000 کروڑ بجٹ ، علحدہ اقلیتی سب پلان ، نوجوانوں کو خودروزگار اسکیمات کیلئے ہر سال ایک ہزار کروڑ کے خرچ ، اقلیتی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے مالی امداد ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لئے 5 لاکھ ، پوسٹ گریجویشن کی تکمیل پر ایک لاکھ ، گریجویشن کیلئے 25 ہزار ، انٹرمیڈیٹ کی تکمیل پر 15 ہزار اور ایس ایس سی کامیاب طلبہ کو 10 ہزار کی مالی مدد کی جائے گی۔ کانگریس نے سکھوں کیلئے علحدہ سکھ میناریٹی فینانس کارپوریشن کے قیام کا وعدہ کیا ہے۔ اقلیتی اداروں کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات اور اردو میڈیم اساتذہ کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی کا وعدہ کیا گیا۔ ائمہ، مؤذنین ، درگاہوں کے خادمین ، چرچس کے پاسٹرس اور گردواروں کے گرنتھوں کو ماہانہ 10 تا 12 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جائے گا۔ تلنگانہ اسٹیٹ میناریٹی کمیشن قانون میں ترمیم کرتے ہوئے اسے مستقل ادارے میں تبدیل کیا جائے گا جس کی سالانہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ پارٹی نے وقف بورڈ کی تمام جائیدادوں کو ڈیجٹلائیز کرنے ، غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی اور وقف بورڈ کے حق ملکیت کو بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے قبرستانوں کا تحفظ اور قبرستانوں کیلئے اراضی الاٹ کی جائے گی۔ اندرماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت بے گھر اقلیتی خاندانوں کو مکان کی تعمیر کیلئے پانچ لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی ۔ اقلیتوں بشمول سکھ ، عیسائی ، پارسی ، جین اور مسلمانوں کے غریب شادی شدہ نئے جوڑوں کو ایک لاکھ 60 ہزار روپئے کی مدد کی جائے گی۔ سٹ ون کا احیاء کرتے ہوئے اقلیتی نوجوانوں کو مختلف ٹکنیکل کورسس میں ٹریننگ دی جائے گی۔ پرانے شہر کی ترقی کیلئے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا احیاء عمل میں لاتے ہوئے فنڈس جاری کئے جائیں گے۔ کانگریس نے بی آر ایس حکومت کے مختلف اسکامس اور کرپشن سرگرمیوں کی ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج سے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے ۔ کانگریس حکومت نے چیف منسٹر کیمپ آفس میں روزانہ عوامی مسائل کی سماعت کیلئے پرجا دربار رہے گا۔ 6 ضمانتوں کے تحت کئے گئے وعدوں پر عمل آوری میں تمام طبقات کو حصہ داری رہے گی۔ پارٹی نے اقلیتوں کیلئے علحدہ ویلفیر بورڈ کے قیام اقلیتی طلبہ اور طالبات کیلئے اقامتی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ، اردو زبان کی ترقی اور سرکاری محکمہ جات میں اس کے استعمال کے علاوہ دلت کرسچنوں کی تر قی کے اقدامات کا وعدہ کیا گیا۔ کانگریس نے گریٹر حیدرآباد کی ترقی کیلئے کئی وعدے کئے ہیں۔ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کا ہیرٹیج عمارت کے طور پر تحفظ کیا جائے گا ۔ چار عصری میٹرنیٹی ہاسپٹل ، چار وٹرنری ہاسپٹل ، دو ای این ٹی ہاسپٹل اور دو آئی ہاسپٹل تعمیر کئے جائیں گے۔ شہر اوراطراف کے سلاٹر ہاؤزس کو عصری بنایا جائے گا۔ سلم علاقوں میں عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ میونسپلٹیز ، کارپوریشنوں اور گرام پنچایتوں بشمول گریٹر حیدرآباد میں پراپرٹی ٹیکس اور ہاؤز ٹیکس کے بقایہ جات پر جرمانہ معاف کیا جائے گا۔ حیدرآباد اور ریاست کی دیگر میونسپلٹیز میں ہر گھر کو 25 ہزار لیٹر پانی مفت سربراہ کیا جائے گا۔ نئی میٹرو ٹرین ایل بی نگر تا بی ایچ ای ایل توسیع دی جائے گی۔ نامپلی ، سکندرآباد ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹیشنوں کو مربوط کرتے ہوئے اسکائی واک تعمیر کی جائے گی۔ کانگریس نے ہر سال جاب کیلنڈر جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت گروپ I ، گروپ II ، گروپ III اور گروپ IV کیلئے نوٹفکیشن کی تاریخوں کو قطعیت دی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرس کیلئے بھی کئی وعدے کئے گئے ہیں۔