اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے آر ایس ایف کی متوازی حکومت کو مسترد کردیا

   

اقوام متحدہ، 14 اگست (یو این آئی) اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے سوڈان میں نیم فوجی پیرا ملٹری دستوں ‘آر ایس ایف’ کے متوازی حکومتی اتھارٹی کے اعلان کو مسترد کر دیا اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام ملکی وحدت، علاقائی سالمیت اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ۔سلامتی کونسل نے بروز چہارشنبہ کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کونسل کے اراکین نے سوڈان پیرا ملٹری دستوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں متوازی حکومتی اتھارٹی کے قیام کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے ۔ کونسل کو اس بات پر سخت تشویش ہے ۔ یہ اقدام ملک کو تقسیم کر سکتا ہے اور انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے ۔کونسل نے سوڈان کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کے ساتھ اپنی وابستگی کا واضح الفاظ میں اعادہ کیا اور زور دیا ہے کہ ان اصولوں سے برعکس مذکورہ یکطرفہ اقدامات نہ صرف سوڈان کے مستقبل کے لئے بلکہ وسیع تر خطے کے امن کیلئے بھی خطرہ ہیں۔کونسل کے اراکین نے ، جون میں منظور شدہ اور آر ایس ایف سے الفاشر کا محاصرہ ختم کرنے کے مطالبے پر مبنی،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2736 کا حوالہ دیا اور کہا ہے کہ الفاشر انسانی امداد کا ایک اہم مرکز ہے لہٰذا ان علاقوں میں لڑائی بند کی جائے جہاں قحط اور شدید غذائی قلت کی اطلاعات مل رہی ہیں۔بیان میں شہر پر آر ایس ایف کے نئے حملے کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ”سلامتی کونسل کے اراکین نے آر ایس ایف پر زور دیا ہے کہ وہ الفاشر تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائے ۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق پیر کو آر ایس ایف کے ایک حملے میں کم از کم 57 شہری ہلاک ہو گئے تھے ۔ ہلاک ہونے والوں میں ابو شوک کیمپ کے 40 بے گھر افراد بھی شامل ہیں۔کونسل نے سوڈان کے علاقے ‘کردفان’ میں حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی جن کے نتیجے میں بھاری شہری جانی نقصان ہوا اور انسانی امدادی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں۔کونسل کے اراکین نے زور دیا ہے کہ لڑائی کے خاتمے ، پائیدار جنگ بندی کی یقین دہانی اور سوڈان کے تمام سیاسی و سماجی عناصر کی شرکت سے سیاسی تصفیہ کی راہ ہموار کرنے کی خاطر مذاکرات کا دوبارہ آغاز ضروری ہے ۔