الیکشن سے پہلے ہی چیف منسٹر کی دعویداری ! کشن ریڈی اور ایٹالہ راجندر ہائی کمان کیلئے نیا درد سر

   

حیدرآباد۔/11جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں قیادت کی تبدیلی کے بعد بی جے پی کو امید تھی کہ پارٹی میں داخلی اختلافات ختم ہوں گے لیکن صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ بنڈی سنجے کی قیادت کے خلاف سینئر قائدین کی بغاوت کے زیر اثر بی جے پی ہائی کمان نے مرکزی وزیر سیاحت و کلچر کشن ریڈی کو ریاستی پارٹی کی قیادت سونپ دی۔ پارٹی کو امید تھی کہ کشن ریڈی تمام گروپس میں قابل قبول ثابت ہوں گے اور تلنگانہ کے نتائج بہتر آئیں گے۔ کشن ریڈی کو پارٹی صدر اور رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کو الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ دونوں عہدوں کے درمیان برتری کی سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں قائدین خود کو پارٹی کے چیف منسٹر عہدہ کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ سوشیل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمس پر دونوں کے حامیوں نے ابھی سے مہم چھیڑ دی ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی برسراقتدار آنے پر یہ دونوں چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کشن ریڈی نے جب بنڈی سنجے کے جانشین کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تو اعلیٰ کمان نے انہیں چیف منسٹر کے عہدہ کا پیشکش کیا۔ ہائی کمان نے کہا کہ اگر پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو وہی چیف منسٹر کے امیدوار ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایٹالہ راجندر خود بھی چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں اور ہائی کمان نے کانگریس میں شمولیت سے روکنے کیلئے چیف منسٹر کی کرسی کا تیقن دیا ہے۔ دونوں گروپس کی جانب سے دعویداری بی جے پی ہائی کمان کے لئے نیا درد سر بن چکی ہے۔ ہائی کمان کی جانب سے اس معاملہ میں توثیق یا تردید سے گریز کیا جارہا ہے کیونکہ اس صورت میں اختلافات مزید شدت اختیار کرلیں گے۔ بی جے پی میں تیسرے پاور سنٹر کے طور پر رکن پارلیمنٹ کریم نگر اور سابق صدر بنڈی سنجے برقرار ہیں جنہیں اچانک عہدہ سے معزول کردیا گیا۔ بنڈی سنجے کے حامی تلنگانہ کی سیاست کے بجائے انہیں مرکزی کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے سینئر قائدین کی کانگریس میں شمولیت کو روکنے کیلئے جو منصوبہ بندی کی ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے مسابقت نے کارکنوں کو الجھن میں مبتلاء کردیا ہے۔ وہ یہ طئے کرنے سے قاصر ہیں کہ کس کے ساتھ جائیں۔ر