ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کیا جارہا ہے۔ آئندہ پارلیمنٹ سیشن میں چار ترمیمی بل پیش ہونگے
حیدرآباد : سنٹرل الیکشن کمیشن بڑے پیمانے پر اصلاحات لارہی ہے۔ ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 18 سال مکمل کرنے والوں کو فوری فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ سرویس ووٹرس میں شریک حیات کو بھی اُسی علاقہ میں بحیثیت ووٹر نام شامل کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ای ووٹر کارڈ نظام متعارف کرایا جارہا ہے۔ ان چار اصلاحات کو سال 2021 کی ابتداء میں پورا کرنے ہر الیکشن کمیشن سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ ان میں پہلے تین اصلاحات کے لئے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 میں ترمیم کرنا ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا ماننا ہے کہ ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے پر بوگس ووٹوں کا اخراج کرنے میں کارآمد ثابت ہوگا۔ مستقبل میں الیکٹرانک یا انٹرنیٹ پر مبنی رائے دہی کرانے کے لئے ان دونوں کارڈس کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے پر معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ڈسمبر میں ہی الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا تھا کہ وہ اس عمل کا بہت جلد آغاز کریں گے۔ اس سے ووٹر پر مبنی تفصیلات کی رازداری اور تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے 18 سال عمر مکمل کرنے والے نوجوانوں کو فوری ووٹر لسٹ میں ناموں کا اندراج کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ فی الحال ووٹرس کو ہر سال یکم جنوری کو یا اس سے پہلے ووٹر لسٹ میں ناموں کی شمولیت کی سہولت ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس پالیسی کو تبدیل کرنے کے لئے عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیشکن B-14 میں ترمیم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے سنٹرل آرمڈ فورسیس جیسے سی آر پی ایف، بی ایس ایف اور سی آئی ایس ایف میں خدمات انجام دینے والوں کو خدمت ووٹر سمجھتا ہے وہ جس علاقہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں وہاں انھیں حق رائے دہی سے استفادہ فراہم کرنے کی تجویز رکھتا ہے۔ فی الحال جن علاقوں میں مرد کام کررہے ہیں وہاں ان کی بیویوں کو ووٹ دینے کی سہولت ہے۔ لیکن جن علاقوں میں خواتین کام کررہی ہیں وہاں ان کے شوہروں کو ووٹ دینے کی گنجائش نہیں ہے۔ لہذا عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ (6)20 میں ترمیم کرتے ہوئے خواتین خدمت گذار رائے دہندوں کے شوہروں اور بچوں کو بھی ووٹ دینے کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سنٹرل الیکشن کمیشن نے ای ووٹر کارڈ متعارف کرانے کی تبدیلیاں مکمل کرلی ہے۔ اس نظام کا یوم قومی ووٹر ڈے کے موقع کو 25 جنوری کو آغاز کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ بجٹ سیشن میں ان قوانین کے لئے ترمیمی بل متعارف کرانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل مرکزی کابینہ میں انھیں منظوری بھی دی جائے گی۔