الیکشن کمیشن نے سیلاب متاثرین میں امداد کی تقسیم پر روک لگادی

,

   

ناموں کے اندراج کیلئے می سیواسنٹرس پر ہجوم میں مایوسی، قطار میں خاتون فوت

حیدرآباد۔ریاستی الیکشن کمیشن نے شہر حیدرآباد میں سیلاب متاثرین کو دی جانے والی 10ہزار روپئے کی امداد پر فوری روک لگانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس عمل کو روک دینے کی ہدایت دی جس کے بعد شہر حیدرآباد کے کئی می سیوا مراکز پر جہاں ہزاروں کی تعداد میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی 10 ہزار کی امداد کے حصول کیلئے آن لائن درخواستوں کے ادخال کے لئے قطاروں میں کھڑے تھے ان لوگوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔گذشتہ یوم پریس کانفرنس کے دوران ریاستی الیکشن کمشنر مسٹر پارتھا سارتھی نے سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی امداد کی اجرائی کے سلسلہ جو جاری رکھنے کی اجازت فراہم کی تھی لیکن آج دوپہر ریاستی الیکشن کمشنر نے انتخابی ضابطہ اخلاق کا حوالہ دیتے ہوئے سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی امداد کو روک دینے کی ہدایت جاری کی۔ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد میں گذشتہ ماہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کیلئے 10ہزار روپئے کی امداد کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا اور نقد امداد کی اجرائی میں ہونے والی بد عنوانیوں کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرین کو آن لائن کھاتوں میں رقم کی منتقلی کا فیصلہ کرتے ہوئے می سیواکے ذریعہ درخواستوں کی وصولی کا اعلان کیا گیا تھا ۔انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے دوران ریاستی الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں دریافت کرنے پر کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کو امداد رسانی کے کاموں پر کوئی روک نہیں ہوگی اور نہ ہی 10 ہزار کی امداد کھاتوں میں منتقل کرنے پر کوئی روک ہوگی کیونکہ یہ عمل انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل سے جاری ہے اور اس اسکیم کے ذریعہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے لیکن اعلامیہ کی اجرائی کے دوسرے ہی دن تلنگانہ ریاستی الیکشن کمیشن کے سکریٹری مسٹر ایم اشوک کمار نے اس سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ 10 ہزار کی اجرائی اور اس اسکیم کے لئے درخواستوں کی وصولی پر فوری روک لگایا جائے ۔

ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے احکام کی اجرائی کے ساتھ ہی شہر حیدرآباد میں جن مقامات پر طویل قطاریں تھیں ان مقامات پر پولیس نے می سیوا مراکز کو بند کرواتے ہوئے قطار میں موجود سیلاب متاثرین کو منتشر کردیا جس پر صبح سے ہی قطاروں میں موجود عوام برہم ہوگئے ۔ اسی دوران شہر کے ایک می ۔ سیوا مرکز پر 10ہزار روپئے کی امداد کے حصول کیلئے اپنے نام کا اندراج کروانے کیلئے قطار میں کھڑی 56 سالہ خاتون فوت ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق قطار میں خاتون اچانک گرپڑی اور دواخانہ منتقل کرنے کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔ رشتہ داروں نے بتایا کہ یہ خاتون عارضہ قلب میں مبتلا تھی۔ طویل قطاروں اور ہجوم میں کورونا وائرس کے قواعد پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔گذشتہ دو دنوں سے شہر کے تقریبا تمام می سیوا سنٹرس پر امداد کے حصول کیلئے آن لائن ناموں کے اندراج کیلئے زبردست ہجوم دیکھا گیا جہاں پولیس کوہجوم پر قابو پانے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔