الیکشن کمیشن کانگریس قائدین کے بیان سے ناراض

   

نئی دہلی : بی جے پی نے ہریانہ میں 48 سیٹیں جیت کر ہیٹ ٹرک بنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جیت کی پر امید کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا۔ پارٹی کو صرف 37 سیٹیں ملیں۔ نتائج آنے کے بعد کانگریس لیڈر جئے رام رمیش اور پون کھیڑا نے نتائج میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا اور اسے ایک نظام کی جیت اور جمہوریت کی شکست قرار دیا۔ الیکشن کمیشن نے اس پر اعتراض درج کیا ہے اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو خط لکھا ہے اور کانگریس کے وفد کو ملاقات کا وقت دیا ہے۔الیکشن کمیشن نے کھر گے سے کہا کہ وہ غیر متوقع نتائج پر پارٹی صدر کے موقف کو قبول کرتا ہے نہ کہ بعض پارٹی لیڈروں کے اس موقف کو کہ ہریانہ انتخابات کے نتائج ناقابل قبول ہیں۔کانگریس لیڈران کے بیان پر کمیشن نے کہا کہ اس طرح کا بیان ملک کے جمہوری ماحول میں عام طورپر نہیں سنا جاتا، یہ آزادی اظہار اور اظہار رائے کا حصہ ہونا تو دور کی بات ہے۔آئینی اور ریگولیٹری انتخابی فریم ورک کے مطابق لوگوں کی مرضی کیخلاف ہے، یہ آئین کو غیر جمہوری طور پر مسترد کرنے کا باعث بنتا ہے، جو جموں و کشمیر اور ہریانہ سمیت ملک کے تمام انتخابات پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔