امارات۔ اسرائیل معاہدہ پرعالمی ردعمل کا سلسلہ جاری

,

   

دوبئی: متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین سفارتی بحالی کے رُخ پر مختلف سیاسی اور حکومتی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے ۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے مابین امن معاہدہ کا اور دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہونے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے حکومتی وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے غرب اردن کے علاقوں میں اپنی خودمختاری کے اعلان کو عارضی طور پر معطل کرنے جا رہا ہے ۔متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ جرات مندانہ اقدام ہے جس سے اسرائیل اور فلسطین کے مابین طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا حل ممکن ہوسکے گا۔ایک پریس کانفرنس میں امارات کے مملکتی وزیرخارجہ انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک میں سفارت خانے سے متعلق حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس میں یقینی طور پر زیادہ وقت نہیں لگے گا۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹوئٹ کیا ہے کہ یہ ’تاریخی دن‘ ہے ۔

انہوں نے اپنے ٹی وی خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں آج ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔غزہ کی پٹی کے حکمراں حماس گروپ نے اس معاہدے کو حسب اندازہ مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطین کے مقاصد کی ہرگز تکمیل نہیں ہوتی۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اس معاہدے پر فلسطینی قیادت کا ’ہنگامی اجلاس‘طلب کیا ہے ۔ایران میں پاسداران انقلاب سے وابستہ تسنیم خبررساں ایجنسی نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا معاہدہ شرمناک ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو امریکی ناٹک قرار دیدیا۔ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایسے ناٹک رچاکر فلسطینیوں کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا ہے تو وہ اس خطے کے سیاسی حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔ ایران کے روحانی پیشوا نے ابھی تک معاہدے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین امریکہ کے کردار کی تعریف کی اورایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’’میں نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے الحاق کو روکنے کے بارے میں امریکہ، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ بیان کو دلچسپی اور تحسین کے ساتھ پڑھا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ عرب دنیا میں اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات دو ہمسایہ عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ ایک بڑی خوشخبری ہے ۔اس طرح یہ مشرق وسطی میں امن کی راہ میں ایک خوش آئند قدم ہے ۔ہندوستان نے بھی کل متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے مابین معمول کے سفارتی تعلقات کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین دو ملکوں کے نظریہ پر بات چیت جلد ہی شروع ہو گی۔