امریکہ ،اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ،جواب میں تل ابیب پر خیبرشکن میزائل داغے گئے

,

   

تہران؍تل ابیب؍واشنگٹن، 10 مارچ (یو این آئی) ایران، امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں، جنہیں جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے شدید بمباری قرار دیا جا رہا ہے ۔دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ایران نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت 33 ویں لہر کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے تل ابیب پر ایک ٹن وار ہیڈ والے خیبرشکن میزائلوں سے حملہ کیا ہے ۔الجزیرہ کے مطابق چند گھنٹے قبل ہونے والے حملوں میں تہران شہر کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، دھماکے اس قدر شدید تھے کہ قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز اٹھیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملے جنگ کے آغاز کے بعد سب سے طاقتور حملوں میں شامل ہیں۔ ایران کے شہر کرج میں حملوں کے نتیجے میں بجلی کے نظام کے کچھ حصے متاثر ہوئے ۔ اصفہان میں حکام کے مطابق گورنر ہاؤس اور ایک یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل تاریخی مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ادھر مشرقی تہران کے علاقے رسالت اسکوائر کے قریب حملے میں کم از کم 40 افراد شہید ہو گئے ۔ حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اموات کی مجموعی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے ، جسے انتہائی تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے ۔امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے جواب میں ایران نے خیبر شکن میزائل سے اسرائیل کو سخت نشانہ بنایا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ 33 ویں لہرکا نام لبیک یاخامنہ ای سے منسوب کیا گیا ہے ، تل ابیب کو ایک ٹن وار ہیڈ والے خیبرشکن میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آپریشن کے تسلسل میں امریکی بحریہ کے پانچویں اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ تمام خیبرشکن میزائلوں نے مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے ۔ قبل ازیں ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکہ اس پر پہلے سے بیس گنا زیادہ طاقت سے حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان ایرانی اڈوں کو نشانہ بنائے گا جنہیں آسانی سے تباہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے ایران کا دوبارہ اٹھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان پر موت، آگ اور قہر کی بارش کی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تجارتی سمندری راستوں میں سے ایک ہے ، جو عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ لے جاتی ہے ۔

نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیوکلیئر ہتھیار کے زیادہ حامی

تہران ، 10 مارچ (یو این آئی) ایران کی طاقتور مذہبی کونسل اسمبلی آف ایکسپرٹس نے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے جو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کے صاحبزادے ہیں۔ ایرانی آئین کے مطابق 88 ارکان پر مشتمل اسمبلی آف ایکسپرٹس کو ملک کے سب سے طاقتور عہدے ، یعنی سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے ۔ تاہم اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے کیونکہ ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سپریم لیڈر کے منصب پر کسی سابق رہنما کے بیٹے کو منتخب کیا گیا ہے ، ناقدین اسے ایک طرح کی خاندانی جانشینی قرار دے رہے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں ایران کے مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے سیاسی ماحول میں پرورش پائی اور اپنے والد کو پہلے انقلاب کے رہنما، پھر ایران کے صدر اور بعد ازاں سپریم لیڈر بنتے دیکھا۔ نوجوانی میں انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران رضاکارانہ خدمات بھی انجام دیں۔ بعد میں وہ مذہبی تعلیم کے حصول کیلئے ایران کے اہم مذہبی شہر قم چلے گئے جہاں انہوں نے اسلامی فقہ اور دینی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد میں انہی مدارس میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی بڑا سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی وہ کسی منتخب منصب پر فائز رہے ، تاہم کئی برسوں سے انہیں ایران کی سیاست میں ایک طاقتور مگر پس پردہ شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے ۔ انہوں نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور عام طور پر عوامی تقریروں یا سیاسی بیانات سے بھی گریز کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز بھی نہیں سنی۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے ساتھ بھی قریبی روابط رہے ہیں۔
، جو ایران کے نظامِ طاقت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ان کی قیادت ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہے جب ایران خطے میں بڑھتی کشیدگی، عالمی طاقتوں کے ساتھ تناؤ اور اندرون ملک بڑھتے معاشی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو ایک نئے دور کی طرف لے جائیں گے یا مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک طویل اور سخت مرحلہ شروع ہونے والا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اپنے والد کے مقابلے میں ایران کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے پروگرام کی ترقی کے زیادہ حامی سمجھے جاتے ہیں اور علی خامنہ ای کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے خلاف فتوے کی نئی تعبیر کی حمایت کرتے ہیں۔