انقرہ : صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے امریکہ اور فرانس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ترکی کے داخلی معاملات میں یہ دونوں ممالک اگر مداخلت نہ کریں تو بہتر ہوگا۔ ترکی کی ایک یونیورسٹی میںحالیہ دنوں ہوئے طلباء کے احتجاج پر فرانس اور امریکہ نے شدید تنقیدیں کی تھیں۔ نماز جمعہ کے بعد اخباری نمائندوں سے مسجد حضرت علیؓ کے باہر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلباء کے احتجاج کو اجتماعی احتجاج نہیں کہا جاسکتا۔ طلباء کا ایک گروپ کچھ برہم تھا جس نے احتجاج منظم کیا جبکہ ملک میں 206 یونیورسٹیاں ہیں جہاں تعلیم اور انفراسٹرکچر کو لیکر حالات بالکل نارمل ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ترکی کے داخلی معاملات میں امریکہ اور فرانس کو دخل دینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اردغان نے امریکہ اور فرانس کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ فرانس میں زرد جیکٹ احتجاج کے ساتھ مناسب طور پر نہیں نمٹا گیا جبکہ امریکہ نے بھی ’’بلیک لائیوز میٹر‘‘ احتجاج کو کچلنے تشدد کا استعمال کیا۔