امجد خان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر حملہ کی تیاری کرچکے ہیں۔ ایک طرف وہ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ دوسری طرف مذاکرات کا بھی سلسلہ جاری رکھے ہے ہوئے ہیں۔ وہ مختلف ملکوں کو امریکہ کے سواء دوسرے ملکوں خاص طور پر مسلم ملکوں سے ہتھیار خریدنے کے خلاف انتباہ بھی دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے مفادات کی تکمیل اور اس کے تحفظ کیلئے خود کو تباہ و برباد کرلے گا ۔ خود جیفری ایپٹسن فائلز میں واضح طور پر انکشاف کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے زیر اثر ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مرضی و منشاء کے مطابق اقدامات و فیصلہ کرتے ہیں حالانکہ ساری دنیا نیتن یاہو کو غزہ کا قصائی نہتے فلسطینیوں بالخصوص خواتین اور معصوم بچوں کا قاتل قرار دیتی ہے اور اس میں کوئی دورائے بھی نہیں۔ فی الوقت نیتن یاہو دنیا کا سب سے بڑا جنگی مجرم ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی تائید و حمایت کرنے والے ممالک اور اس کے حکمراں مجرم ہیں ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نیتن یاہو اور صیہونی طاقتیں ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے استعمال کر رہی ہیں اور اس کیلئے ٹرمپ کے یہودی داماد جیسرڈ کیشنر کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔ کیشنر ٹرمپ انتظامیہ میں پوری وفاداری کے ساتھ اسرائیلی مفادات کی نگہبانی کر رہے ہیں اور عالمی برادری اس کا بڑی بے بسی ، بے کسی کے ساتھ تماشہ دیکھ رہی ہے۔ خود اسرائیلی ڈیفنس فورس IDF نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ اس نے 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل کیا ہے (شہدائے فلسطین میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔ اسی طرح چار لاکھ سے زائد فلسطینی معذور ہوگئے ہیں جن میں کم از کم 50 فیصد مستقل طورپر معذور ہوئے ہیں ، یہ اچھا ہوا کہ ان کی جانیں بچ گئیں) حد تو یہ ہے کہ اسرائیل نے امریکہ اور یوروپی ملکوں کے سربراہ کردہ تھرمو بیرک بموں کا بھی فلسطینیوں کے خلاف استعمال کرتے ہوئے ساری انسانیت کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا ۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے وہ بھی اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں پر ڈھائے گئے مظالم اور مجرمانہ حرکتوں کے معاملہ میں شریک جرم ہے ۔ وہ مسلم ملکوں کو مسلسل نشانہ بنارہا ہے اور امریکہ کی 260 سالہ تاریخ میں یہی دیکھا جاسکتا ہے کہ اس نے کمزور اور ان ملکوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی، انہیں جنگ و جدل کے دلدل میں پھنسادیا جو اس (امریکی) کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا تھا ۔ عراق ، لیبیا ، شام ، سوڈان ، افغانستان ، پاکستان ، صومالیہ اور دوسرے بے شمار ملک امریکی ہٹ دھرمی اور اس کے عالمی چوہدری ہونے کے نتیجہ میں نشانہ بنے اورامریکی انتقام کی یہ ممالک بدترین بلکہ عبرت ناک مثال بن گئے ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگرچہ امریکہ عالمی پولیس میان کا کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی سطح پر دلواگری میں ملوث ہے لیکن امریکہ میں داخلی طور پر کچھ بھی ٹھیک ٹھاک نہیں ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف دنیا بلکہ خود امریکی شہریوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے ۔ وہ عالمی سطح پر ملکوں کو ڈرانے دھمکانے اور اسرائیلی مفادات کی تکمیل میں مصروف ہے لیکن امریکہ میں گن کلچر اس قدر خطرناک حد تک فروغ پاچکا ہے کہ وہاں ہر 11 منٹ میں گن کلچر کے نتیجہ میں ایک قتل ہوتا ہے ۔ ویسے بھی امریکہ دنیا کے پانچ بڑے اسلحہ سربراہ کرنے والے ملکوں میں سرفہرست ہے یعنی دنیا میں ان اسلحہ کے ذریعہ جو خون خرابہ ہورہا ہے ، انسانیت تباہ و تاراج ہورہی ہے ، اس کیلئے سب سے بڑا ذ مہ دار امریکہ ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ ان ملکوں میں امریکہ ، فرانس ، روس ، چین اور جرمن شامل ہیں۔ ہم گن کلچر کی بات کر رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ میں آئس ہاکی میچ کے دوران فائرنگ میں تین افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے جن میں حملہ آور بھی شامل ہے ، پولیس کے مطابق یہ ہلاکتیں دراصل خاندانی جھگرے کا نتیجہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی اور دو بچوں پر فائرنگ کی ۔ بیوی مقام واقعہ پر ہی ہلاک ہوگئی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دوسرے ملکوں کی تباہی کا سامان کرنے والے امریکہ میں ہر سال 46 ہزار تا 48 ہزار مرد و خواتین اور بچے گن کلچر کی نذر ہوجاتے ہیں۔ صرف سال 2023 میں گن کلچر یا فائرنگ کے نتیجہ میں 46,728 امریکی مارے گئے۔ ان میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرنے والوں کی تعداد 27,000 رہی جبکہ دوسروں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد 17,000 درج کی گئی۔ آپ کو بتادیں کہ امریکی حکومتیں صرف امریکہ میں ہی گن کلچر کو فروغ نہیں دے رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بڑے پیمانہ پر مختلف ملکوں کو امریکی اسلحہ خریدنے پر مجبور بھی کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جو ا سلحہ یا ہتھیار فروخت ہوتے ہیں ان میں 43 فیصد حصہ امریکہ کا ہے وہ کم از کم 100 ملکوں کو اسلحہ اور دفاعی ٹکنالوجی فروخت کرتا ہے ، ویسے بھی اگر قومی قرض یا National debt کی بات ہوتی ہے توامریکہ کا قومی قرض 36.2 کھرب ڈالرس ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور آئندہ چند برسوں کے دوران اس قرض کے 40 کھرب ڈالرس تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ ان حالات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دوسرے ملکوں کی تباہی کا سامان کرنے کی بجائے اپنے ملک کو اسرائیل کے ہاتھوں کھوکھلا ہونے سے بچانے کی فکر کرنی چاہئے۔