امریکہ و اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کردی ‘ کئی امریکی فوجی اڈوں پر ایران کا پلٹ وار

,

   

٭ تہران پر اسرائیل نے میزائیلوں کی بارش کردی ۔ خامنہ ای محفوظ مقام منتقل۔ 200 جنگی طیاروں نے 500 نشانوں پر ضرب لگائی :اسرائیل کا دعوی
٭ ایران نے یو اے ای ‘ بحرین ‘ قطر ‘ کویت ‘ عراق ‘ لبنان اور سعودی عرب میںامریکی ٹھکانوں پر میزائیل داغے ‘ دوبئی پام جمیرہ کی فئیر مونٹ ہوٹل پر ڈرون حملہ
٭ ایران میں اسرائیلی حملوں میں 200 افراد ہلاک ۔ 85 طالبات شامل ۔ 700 زخمی ۔ دوبئی اور کویت کے ائرپورٹ بند ۔ عالمی قائدین کا تحمل سے کام لینے کا مشورہ

تہران : 28 فبروری ( ایجنسیز ) اسرائیل اور امریکہ نے آج اچانک ہی ایران پر فضائی حملے کرتے ہوئے عملًا جنگ کا آغاز کردیا اور دارالحکومت تہران میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا ۔ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایرانی حکومت کے ہیڈکوارٹر کے علاوہ ایران کے سپریم رہنماء آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیامگاہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای اس وقت تہران میں نہیں ہیں اور وہ پہلے ہی کسی اور محفوظ اور خفیہ مقام پرمنتقل ہوگئے ہیں۔ نیوکلئیر مسئلہ پر ایران کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل اور امریکہ نے ایران کو اپنے جارحانہ حملوں کا نشانہ بنایا ۔ ایران نے اپنی سابقہ دھمکی کے مطابق سارے علاقہ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔ ایران کی جانب سے پلٹ وار کرتے ہوئے خطہ میں کئی مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کئے ہیں۔ ایران نے متحدہ عرب امارات ‘ بحرین ‘ قطر ‘ دوبئی ‘ اردن اور کویت پر حملے کئے ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان اور عراق میں بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے ۔ علاوہ ازیں ایران کی جانب سے سعودی عرب کے شہر ریاض پر بھی امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے حملہ کیا گیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایران کے انقلابی گارڈز کے سربراہ کی موت ہوگئی ہے تاہم اس کی توثیق نہیں ہو پائی ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور انہیں پہلے ہی کسی محفوظ اور خفیہ مقام کو منتقل کردیا گیا ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی حکومت کے ہیڈ کوارٹر کے علاوہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے گھر کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے گئے تھے ۔ ایک اور اطلاع میں کہا گیا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی کو نشانہ بنایا تھا اور پھر دوبئی پر بھی ڈرون حملے کئے گئے ہیں۔ دوبئی کی مشہور پام جمیرہ ہوٹل کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملہ کیا گیا تھا ۔ کویت میں ائرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ دوبئی پام جمیرہ کی فئیر مونٹ ہوٹل اور کویت ائرپورٹ پر حملہ میں کئی ورکرس کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ کہیں سے ہلاکت کی توثیق نہیں ہوئی ہے ۔ ایران نے اسرائیل کے کچھ علاقوں کو بھی نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملے کئے ہیں ۔ وہاں بھی کچھ نقصانات کی اطلاع ملی ہے ۔ اس دوران ایران نے توثیق کی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں تقریبا 200 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ قبل ازیں ایران نے کہا تھا کہ حملوں میں 40 طالبات کی موت ہوئی ہے ۔ یہ طالبات مناب کاؤنٹی میں ایک اسکول پر حملے میں ہلاک ہوئی ہیں ۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ تاحال اس حملے میں 85 افراد طالبات ہلاک ہوئی ہیں جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے کہا کہ ایک جمنازیم پر حملے میں 15 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے ۔ ایران کی جانب سے ہلاکتوں کی جو تعداد بتائی گئی ہے اس کی تاحال کسی اور ذرائع سے توثیق نہیں ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں پر مسلسل نظر رکھی ہے ۔ وہ فلوریڈا ریسارٹ میں مقیم ہیں اور وہیں سے جنگ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ نیشنل سکیوریٹی ٹیم کی جانب سے بھی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ اس دوران عالمی قائدین نے اسرائیل ‘ امریکہ اور ایران سے کہا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوںکا سلسلہ روکیں اور بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کی یکسوئی کرنے کی کوشش کی جائے ۔ تمام ممالک نے تاہم کہا کہ ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے گریز کرنا چاہئے ۔ اس دوران لبنانی ملیشیا گروپ حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اظہار یگانگت کیا ہے تاہم اس نے ابھی جنگ میں ایران کی تائید یا ایران کی مدد کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ سبھی کیلئے نقصان کا باعث ہوسکتا ہے اگر اسے فوری روکا نہیں گیا ۔ حزب اللہ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ اپنے اس حملے کی اسرائیل اور امریکہ کو بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں فضائی حملوں اور سارے علاقہ میںکشیدگی کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ دنیا بھر میں تیل کی منتقلی کیلئے آبنائے ہرمز اہمیت کی حامل ہے اور اسی کے ذریعہ سعودی عرب ‘ ایران ‘ عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیج اومان اور بحیرہ عرب سے جڑنے میں مدد ملتی ہے ۔ ایران نے تاحال اس حکمنامہ کی توثیق نہیں کی ہے ۔ ایرانی جوابی کارروائی کے بعد کویت انٹرنیشنل ائرپورٹ کے علاوہ دوبئی کے دوبئی انٹرنیشنل اور المختوم ائرپورٹ کو بند کردیا گیا ہے ۔