امریکہ و ایران کے مابین پہلا دو بدو رابطہ ‘ 2 دور کی بات چیت مکمل

, ,

   

آبنائے ہرمز پر اختلاف برقرار ۔ تیسرے دور کی بھی بات چیت کا امکان‘ شہباز شریف سے وفود کی علیحدہ ملاقاتیں

اسلام آباد 11 اپریل ( ایجنسیز ) امریکہ اور ایران کے وفود کے مابین اسلام آباد میں آج دو دور کی بات چیت مکمل ہوگئی اور امید کی جا رہی ہے کہ تیسرے دور کی بات چیت اتوار کو ہوگی ۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے یہ اطلاع دی اور کہا کہ بات چیت انتہائی سنجیدہ ماحول میں کی جا رہی ہے ۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد میں اسٹیو وکٹوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں جبکہ ایرانی وفد میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دوسرے شامل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ فریقین کے مابین کچھ دستاویزات کا تبادلہ عمل میں آیا ہے جس میں ہر فریق نے اپنے اپنے موقف کو پیش کیا اور اپنے مطالبات سے واقف کروایا ہے ۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ اور ایران کے وفود کے مابین دو بدو سفارتی بات چیت ہو رہی ہے ۔ تاحال دونوں ممالک کے مابین مصالحت کاروں کے ذریعہ ہی مذاکرات ہوا کرتے تھے ۔ باضابطہ بات چیت کے آغاز سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ بات چیت میں اصل موضوع رہا اور مصالحت کاروں میں اس پر فوری کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔ ایرانی حکومت کے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ بات چیت ماہرین کی سطح کے مرحلہ میں پہونچ چکی ہے اور معاشی ‘ فوجی ‘ قانونی اور نیوکلئیر کمیٹیاں بھی اس کا حصہ بن گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ٹکنیکل تفصیلات کو قطعیت دینے بات چیت جاری ہے ۔ ایرانی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بہت زیادہ مطالبات کئے جا رہے ہیں جس کو قبول کرنے میں ایران کو پس و پیش ہے ۔ راست ملاقات سے قبل وفود نے مصالحت کاروں کے ذریعہ بات کی اور وزیر اعظم شہباز شریف کو کچھ مسائل سے واقف کروایا ۔تیسرے دور کی بات چیت کے شیڈول کو ابھی قطعیت نہیں دی گئی ۔