’ یہ بلااشتعال جنگ ہے‘، لوگوں کی رائے ۔ یوکرین ایمبیسی رکروٹمنٹ سنٹر میں تبدیل
نیویارک: امریکی شہریوں کی بڑی تعداد یوکرین جا کر روس کے خلاف لڑنا چاہتی ہے اور اس صورت حال نے امریکہ میں یوکرین کے سفارتخانے کو غیرمتوقع طور پر ایک ریکروٹمنٹ سینٹر کا سا کردار سونپ دیا ہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یوکرینی سفارت کاروں کو ایسی ہزاروں پیش کشیں مل رہی ہیں جن میں لوگ رضاکارانہ طور پر یوکرین جانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔یوکرین کے ملٹری اتاشی میجر جنرل بوریس کریمینٹسکی کا کہنا ہے کہ ’ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ بلااشتعال اور ناجائز ہے اور وہ آکر لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔امریکی رضاکار یوکرین کے لیے لڑنے کے خواہاں افراد کے بہت چھوٹے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، جو سوشل میڈیا کے اس دور میں بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں پر جذبات کا عکاس ہے۔جنرل کریمینٹسکی کے مطابق ’یہ کرائے کے فوجی نہیں جو پیسے کمانے آ رہے ہیں، بلکہ یہ خیرسگالی کے جذبے سے سرشار لوگ ہیں جو آزادی کے لیے لڑنے والوں کی مدد کے لیے آنا چاہتے ہیں۔امریکی حکومت امریکیوں کے یوکرین جا کر لڑنے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے کیونکہ اس سے قانونی اور سکیورٹی کے مسائل کھڑے ہونے کا اندیشہ ہے۔کریمینٹسکی کا کہنا ہے کہ 24 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے سے لے کر اب تک یوکرینی سفارتخانے سے کم از کم چھ ہزار لوگوں نے رضاکارانہ طور پر خدمات پیش کرنے کے حوالے معلومات لی ہیں اور ان میں سے اکثریت امریکی شہریوں کی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رپورٹ کے مطابق رضاکاروں کی تقریباً آدھی تعداد کو بغیر کسی انٹرویو کے ہی مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ فوجی مہارت نہیں تھی یا پھر وہ مجرمانہ ریکارڈ رکھتے تھے، اسی طرح عمر اور دیگر وجوہات کی بنا پر بھی لوگوں کو رد کیا گیا، جن میں ایک سولہ سالہ لڑکا اور 73 سالہ بزرگ بھی شامل تھا۔