نیویارک : امریکی سفارتکار ہالا رہاریت نے غزہ جنگ پالیسی پر بائیڈن انتظامیہ چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ میں امریکہ سے کسی کے مزید نفرت کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہتی۔ہالا رہاریت نے امریکی محکمہ خارجہ کی ملازمت سے پچھلے ہفتے استعفی دے دیا تھا، مستعفی ہونے سے پہلے وہ دبئی میں امریکی سفارتکار تھیں۔ہالا رہاریت 18 برس سے امریکی محکمہ خارجہ سے وابستہ تھیں اور عربی زبان کی ترجمان تھیں، ہالا رہاریت نے دوران ملازمت شہرت حاصل کرنے سے ہمیشہ گریز کیا تھا۔مستعفی امریکی سفارتکار نے اپنے بیان میں کہا کہ اکتوبر سے میں نے غزہ صورتحال پر انٹرویو دینا بند کردیے تھے، کیوں کہ محکمہ خارجہ غزہ پر جن نکات پر بات کا کہتا تھا وہ اشتعال انگیز تھے۔ہالا رہاریت کا کہنا تھا کہ محکمہ خارجہ کے نکات اکثر فلسطینیوں کو یکسر نظر انداز کرتے تھے، محکمہ خارجہ کے نکات میں فلسطینیوں کی حالت زار کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ خارجہ کے نکات پر بات کرتی تو لوگ ٹی وی پر جوتا مارنے، امریکی پرچم جلانے اور امریکی فوج پر راکٹ مارنے کا سوچتے، میں امریکہ سے مزید نفرت کی وجہ نہیں بننا چاہتی تھی۔