قونصل خانہ کی سیکوریٹی کو بہتر بنانے پولیس کی توجہ ، متبادل انتظام کے لیے منصوبہ بندی
حیدرآباد۔4۔مارچ۔(سیاست نیوز) امریکی قونصل خانہ کے روبرو گذرنے والی سڑک کو بند کردیئے جانے کے بعد نانک رام گوڑہ ‘ گچی باؤلی کی اس مصروف ترین سڑک پر ٹریفک کے مسائل میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے الرٹ جاری کئے جانے کے بعد شہری پولیس انتظامیہ نے امریکی قونصل خانہ حیدرآباد کو سیکوریٹی انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے بند کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست میں موجود امریکی کمپنیوں اور اداروں کی سیکوریٹی کو بہتر بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت امریکی قونصل خانہ کے روبرو سڑک کو بند کئے جانے کے بعد نانک رام گوڑہ سڑک پر ٹریفک کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے عہدیداروں نے بتایا کہ ان مسائل کو بھی جلد حل کرنے کے لئے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ویپرو سرکل سے گولی ڈوڈی گذرنے والی ٹریفک کے علاوہ قونصل خانہ سے ویپرو سرکل کی سمت آنے والی ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری طور پر منصوبہ بندی کے اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ ایران ۔امریکہ جنگ کے پیش نظر کئے جانے والے تحفظ کے اقدامات کے طور پر پولیس کی جانب سے عجلت میں کئے گئے اس سڑک کو بند کرنے کے فیصلہ کے بعد سے شروع ہونے والے ٹریفک کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں حل کرنے کے اقدامات پرغور کیا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اس سڑک سے گذرنے والی ٹریفک کے رخ موڑنے کے علاوہ دیگر سڑکوں پر ٹریفک کی گذرگاہ کے لئے اقدامات کئے جانے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق گولی ڈوڈی ۔ ویپرو جنکشن کی راہداری پر روزانہ صبح 8 بجے تا11 بجے کے دوران 50 تا 60 ہزار گاڑیاں گذرتی ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ محض ویپرو جنکشن سے اس وقت گذرنے والی گاڑیوں کی تعداد 80تا90ہزار گاڑیاں گذرنے لگی ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ امریکی قونصل خانہ کے روبرو موجود سڑک کو بند کئے جانے کے بعد دونوں ہی جنکش پر اس وقت 2تا3 ہزار گاڑیوں کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جو کہ اس سڑک پر ٹریفک کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس سڑک پر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں ماہرین منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے علاوہ دیگر اداروں سے تال میل کے ذریعہ ٹریفک کے رخ تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔3