2,100 کروڑ کی سرمایہ کاری سے الکٹرانک گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ کمپنی کا قیام
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : امریکی نژاد ٹرائی ٹن ادارے نے 2100 کروڑ روپئے کے مصارف سے ریاست میں الکٹرانک گاڑیوں کی مینوفکچرنگ انڈسٹری قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے لیے تلنگانہ حکومت نے ظہیر آباد میں نیشنل انوسمنٹ اینڈ مینوفیکچرنگ کونسل (NIMZ) میں 150 ایکر اراضی مختص کی ہے ۔ واضح رہے کہ اس علاقہ میں حکومت 13,500 ایکڑ اراضی پر نمیز قائم کررہی ہے ۔ محکمہ صنعت و آئی ٹی کے پرنسپل سکریٹری جیش رنجن نے پرگتی بھون میں وزیر صنعت کے ٹی آر کی موجودگی میں ٹرائی ٹن ادارہ کے بانی صدر نشین ہمانشو پٹیل کو اراضی حوالگی سے متعلق دستاویزات پیش کئے ۔ اس موقع پر ٹرائی ٹن ادارہ سے متعلقہ ہندوستانی شعبہ کے سربراہ محمد منصور معاون صدر اکبر رشید بھی موجود تھے ۔ وزیر کے ٹی آر نے اس معاہدے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد اراضی ٹرائی ٹن ادارے کے حوالے کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ جلد از جلد ریاست میں الکٹرانک گاڑیوں کے مینوفیکچرنگ کا آغاز ہوگا ۔ ہمانشو پٹیل نے کہا کہ حکومت سے اراضی دستیاب ہوتے ہی فوری کاموں کا آغاز کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ظہیر آباد میں مختص کردہ اراضی ان کے انڈسٹری کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوگی ۔ جو مستقبل میں الکٹرانک گاڑیوں کی تیاری کے مرکز میں تبدیل ہوجائے گی ۔ اس ادارے نے 24 جون کو تلنگانہ حکومت سے ایک معاہدہ پر دستخط کیا تھا ۔ 2100 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے 25 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے ۔ پہلے پانچ سال کے دوران 50 ہزار سے زیادہ سیڈان ۔ لگثرری کاریں اور دوسری برقی گاڑیاں تیار کی جائیں گی ۔۔ ن