امریکی و اسرائیلی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ

,

   

تہران، 17 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر کیے گئے حملے کے بارے میں کچھ نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو موصول ہونے والی ایک لیک آڈیو میں انکشاف ہوا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای میزائل حملے سے چند ہی لمحے پہلے کسی کام کی وجہ سے کمپاؤنڈ سے باہر نکلے تھے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای، ان کے خاندان کے افراد اور ایرانی قیادت کو ایک ہی وقت میں نشانہ بنانے کی کوشش میں ایران کے مقامی وقت کے مطابق لیڈر شپ کمپاؤنڈ کو صبح 9 بجکر 32 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی یہ آڈیو ریکارڈنگ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے دفتر میں پروٹوکول کے سربراہ مظاہر حسینی کی تھی، جو 12مارچ کو تہران میں ایک میٹنگ کے دوران خطاب کر رہے تھے ۔ رپورٹ میں لیک آڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ رہے ، بس ان کی ٹانگ پر معمولی چوٹ آئی تھی جبکہ ان کی بیوی زہرہ حداد عادل اور بیٹا شہید ہو گئے ۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے دفتر کے احاطے کے متعدد حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا، جن میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کے خاندان کے کئی افراد کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔
ایران کی میزائل طاقت تباہ کرنے کا دعویٰ، پھر بھی ایرانی حملے جاری
واشنگٹن،17مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے تاہم ایران کی جانب سے خطے میں حملے تاحال جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت عملی طور پر ختم ہوچکی ہے اور اسے فضائی برتری میں بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کی ڈرون بنانے کی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں میزائل خطرات اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ابوظبی میں ایک حملے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ایران کے حملوں میں نمایاں کمی ضرور آئی ہے ، جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون فائر کیے ، تاہم اب یہ تعداد کم ہو کر محدود حملوں تک رہ گئی ہے ، امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 80 فیصد سے زائد کمی ہو چکی ہے ۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی قابلِ ذکر میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے اور اس نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ہے ، ایران اب بڑے حملوں کے بجائے کم تعداد میں مگر مسلسل میزائل اور ڈرون فائر کر رہا ہے ، تاکہ مخالف ممالک کے دفاعی نظام کو دباؤ میں رکھا جا سکے ۔ ماہرین کے مطابق ایران موبائل لانچرز اور خفیہ مقامات سے حملے کر رہا ہے ، جس کے باعث ان لانچرز کو مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہے ۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران جنگِ استحصال کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے ، جس کا مقصد طویل مدت تک دباؤ برقرار رکھنا اور مخالفین کو معاشی و دفاعی طور پر تھکانا ہے ۔ اس کشیدگی کے عالمی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات شامل ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں