قانون شکنوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری، شکیل عامر کی کانفرنس
بودھن۔شکیل عامر ایم ایل اے بودھن اپنے بیرونی ملک کے دورہ سے واپس لوٹ کر گذشتہ روز سیدھے بودھن پہنچے اور انہوں نے شیواجی مہاراج کے مجسمہ کو نصب کرنے کے تعلق سے اکثریتی و اقلیتی فرقہ کے افراد میں پیدا ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کے تعلق سے سرکاری عہدیداروں اور دونوں فرقوں کے معزز افراد سے بات چیت کرنے کے بعد گزشتہ رات اپنے کیمپ آفس بودھن میں منعقدہ پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں ابھی تک حلقہ اسمبلی بودھن میں کوئی فرقہ پرستی کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمہ کی تنصیب کو لے کر یہاں بودھن میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا واقعہ رونما ہونے سے انہیں ذہنی تکلیف ہونے کا اظہار کیا۔ شکیل عامر نے کہا ہ وہ امن و ضبط کو برقرار رکھنے انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات سے مطمئن ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ لا اینڈ آرڈر میں کسی قسم کی مداخلت کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے پرامن ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں میں مقامی افراد سے زیادہ بیرونی افراد کا ہاتھ ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ شکیل عامر نے کہا کہ مجلس بلدیہ بودھن کے اجلاس میں چھ مجسمہ چاکلی ایلماں، پاپنا، بسویشورراؤ، چھتر پتی شیواجی مہاراج اور ابوالکلام آزاد اور اے پی جے عبدالکلام کے مجسموں کو نصب کرنے قرارداد منظور کرتے ہوئے ضلع کلکٹر نظام آباد کو روانہ کردی گئی تھی تاحال ضلع انتظامیہ سے منظوری آنا باقی ہے۔ لیکن بعض افراد نے بودھن شہر کے امن و امان میں خلل پیدا کرنے شیواجی کے مجسمہ کو قبل از وقت نصب کرتے ہوئے مسائل کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ شکیل عامر نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر میں خلل پیدا کرنے والوں میں ان کی پارٹی کے بشمول دیگر سیاسی جماعتوں کے افراد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے افراد چاہے کسی بھی عہدہ یا رتبہ کے ہوں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ شکیل عامر نے بعض ٹی وی چیانلس کی جانبدارانہ نشریات اور ان کی کردار کشی کرتے ہوئے ان کے سیاسی کیریئر پر کیچڑ اچھالنے والوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد بعض ٹی وی چیانلس کے خلاف مقدمات دائر کریںگے۔ اس پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ وی آر دیسائی چیرمین مارکٹ کمیٹی صدر ٹاون و سکریٹری ٹی ار ایس رویندریادو ، عبدالرحمن، صدر اقلیتی سیل بابا، این آر آئی ، ارکان بلدیہ اور سینئر قائدین موجود تھے۔