امیت شاہ و راہول گاندھی کی تقاریر پر بی جے پی و کانگریس کو نوٹس

,

   

پارٹی صدور جے پی نڈا اور ملکارجن کھرگے سے الیکشن کمیشن کی جواب طلبی ۔ پیر کو دو پہر ایک بجے تک مہلت

نئی دہلی : الیکشن کمیشن نے آج بی جے پی اور کانگریس کو نوٹسیں جاری کرتے ہوئے دونوں کے صدور سے جواب طلب کیا ہے ۔ دونوں حریف قومی سیاسی جماعتوں کو ان کے اسٹار کیمپینرس امیت شاہ اور راہول گاندھی کی تقاریر پر جواب داخل کرنے کو کہا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے تبصروں سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ بی جے پی کے جے پی نڈا اور کانگریس کے ملکارجن کھرگے سے کہا گیا ہے کہ وہ پیر کی دوپہر ایک بجے تک اپنا جواب داخل کریں جبکہ چہارشنبہ کو مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ ( دوسرا مرحلہ ) میںرائے دہی ہونے والی ہے ۔ بی جے پی نے راہول گاندھی کے خلاف ایک شکایت درج کروائی ہے اور الزام عائد کیا کہ کانگریس لیڈر نے ملک کی دوسری ریاستوں پر مہاراشٹرا ریاست سے مواقع ہتھیا لینے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ یہ الزامات انہوں نے ممبئی میں ایک تقریر کے دوران لگائے تھے ۔ بی جے پی نے اپنی شکایت میں کہا کہ راہول گاندھی اپنی تقاریر کے ذریعہ مہاراشٹرا کے نوجوانوں کو مشتعل کر رہے ہیں جو ملک کی سلامتی اور اتحاد کیلئے انتہائی خطرناک ہے ۔ بی جے پی کہنا تھا کہ توقع کے عین مطابق اور ان کی روش کے مطابق راہول گاندھی کی تقریر جھوٹ پر مبنی تھی اور اس کا مقصد ملک کی مختلف ریاستوں کے مابین اختلافات کو ہوا دینا تھا ۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ راہول گاندھی نے اپنی گمراہ کن تقریر کے ذریعہ مہاراشٹرا اور گجرات و دوسری ریاستوں کے عوام کے مابین خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کانگریس نے اپنی جوابی شکایت میں وزیر داخلہ امیت شاہ پر جھوٹی ‘ نفاق پیدا کرنے والی ‘ مفادات پر مبنی تقاریر کا الزام عائد کیا اور کہا تھا کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ امیت شاہ کا یہ الزام تھا کہ کانگریس پارٹی درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات کے تحفظات کی مخالف ہے اور وہ ملک میں دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے ۔ کانگریس کا الزام تھا کہ بی جے پی کی انتخابی مہم میں یہی طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے اور گمراہ کن بیانات دئے جا رہے ہیں۔ امیت شاہ نے کانگریس پر پسماندہ طبقات کے تحفظات ختم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا ۔ کانگریس کا کہنا تھا کہ امیت شاہ کے الزامات مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر رائے دہندوں کو مشتعل کرنے کے مقصد سے دئے گئے تھے تاکہ اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کیا جائے ۔ الیکشن کمیشن نے ان شکایات پر دونوں پارٹیوں کے صدور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے ۔مہاراشٹرا میں 20 نومبر کو رائے دہی ہونے والی ہے اور اسی دن جھارکھنڈ میں بھی دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ نتائج کا اعلان 23 نومبر کو ہوگا ۔