امیدوار کی تعلیمی لیاقت دیکھ کر ووٹرووٹ نہیں دیتے :سپریم کورٹ

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ہرش وردھن باجپائی کے خلاف درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کوئی بھی امیدوار کی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتا۔ جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگارتنا کی بنچ نے نوٹ کیا کہ زیادہ تر رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے سے پہلے کسی امیدوار کے تعلیمی پس منظر کو نہیں دیکھتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا یہ ریمارکس اس وقت آیا جب بنچ کانگریس لیڈر انوگرہ نارائن سنگھ کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔د رخواست میں ہرش باجپائی کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ کہا گیا کہ اس نے اپنی صحیح تعلیمی قابلیت کے بارے میں معلومات نہیں دی تھیں۔ اس سے قبل اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2022 میں سنگھ کی عرضی کو اس بنیاد پر خارج کر دیا تھا کہ باجپائی کی مدت 2022 میں ختم ہو چکی ہے۔ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ اگرچہ مدعا علیہ کیخلاف بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ الزامات بدعنوان عمل کے مترادف نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ مادی حقائق اور بے داغ دستاویزات سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔