آج سے 16 مارچ تک مغربی بنگال میں جلسے، راکیش ٹکیت کی شرکت متوقع
نئی دہلی : کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ انتخابی ریاستوں میں جائیں گے اور لوگوں سے اپیل کریں گے کہ وہ بی جے پی کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری پارٹی کے امیدوار کو ووٹ کریں۔متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ 106 دنوں سے تحریک چلا رہے کسانوں نے اب ان پانچ ریاستوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس بات کو لے کر گزشتہ کئی دنوں سے کسان قائدین کے درمیان تبادلہ خیال ہو رہا تھا اور بالآخر آج اس بات پر انھوں نے مہر لگا ہی دی کہ کسان مظاہرین مغربی بنگال، پڈوچیری، آسام، ٹاملناڈو اور کیرالا کا دورہ کر کے مخالف بی جے پی مہم چلائیں گے۔ 12 مارچ سے 16 مارچ تک مغربی بنگال میں یہ مہم چلائی جائے گی۔ آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی کے کارگزار صدر اتل انجان کے مطابق ان جلسوں میں کسان قائد راکیش ٹکیت شرکت کریں گے۔ چنڈی گڑھ میں کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال نے اس فیصلہ کے تعلق سے کہا کہ ’’کسانوں کے احتجاجی مظاہرے کو 105 دن ہو گئے ہیں۔ اب ہم نے ایسی ٹیموں کی تشکیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ان ریاستوں کا دورہ کریں گی جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔‘‘ اس سے قبل 10 مارچ کو سنیوکت کسان مورچہ کے 15 مارچ سے لے کر 28 مارچ تک کے اپنے تفصیلی منصوبے کا اعلان ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔ اعلان کے مطابق 15 مارچ کو کسان مظاہرین پٹرول، ڈیزل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف مودی حکومت کو نشانہ بنائیں گے۔17 مارچ کو کسان تنظیموں کے ساتھ ملک بھر کی مزدور تنظیمیں اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کی میٹنگ طلب کی ہے جس میں 26 مارچ کے ’بھارت بند‘ کو لے کر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
