انسانوں کو خلا میں بھیجنے والی خلائی گاڑی کا پہلا حتمی تجربہ مکمل

   

گگن یان مشن

مہندرا گیری (ٹاملناڈو) : ہندوستانی خلائی جانچ ادارہ(اسرو) نے ایک اہم سنگ میل میں گگن یان مشن کے تحت انسانوں کو خلا میں بھیجنے کے لئے چھوڑی جانے والی خلائی گاڑی کے تین مراحل کا پہلا حتمی تجربہ مکمل کیا ہے ۔خلائی ایجنسی نے وکاس انجن کا تجربہ کیا جو دوسرے مرحلہ میں 240سکنڈ تک استعمال ہوتا ہے ۔انجن کے معائنہ کی تنصیب تمل ناڈو کے مہیندراگری میں ہوئی۔خلائی ایجنسی نے کہا کہ اس کے مقاصد حاصل کرلئے گئے ہیں اور تجربہ کامیاب رہا۔انجن کے تجربہ کے جتنے بھی پیمانے تھے ، ان پیمانوں نے اس سلسلہ میں قائم کئے گئے اندازوں سے میل کھایا۔ خلائی ایجنسی کے جی ایس ایل وی ایم کے تری جس نے چندریان مشن کو کامیابی کے ساتھ خلامیں چھوڑا،کے تین مرحلے ہیں۔دو وکاس انجنس میں استعمال ہونے والی خلائی گاڑی کے لکویڈ اسٹیج کا آج اسرو نے تجربہ کیا۔ایک ماہر نے بتایا کہ یہ ایک اہم سنگ میل ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مخصوص انجن چھوڑے جانے کیلئے تیار ہے ۔خلائی گاڑی کا پہلا مرحلہ کامیاب رہا ہے اور اسرو کو اس مشن کے لئے خلائی گاڑی کے تیار ہونے سے پہلے کرائیوجیک مرحلہ کی کارکردگی کا معائنہ کرنا ہوگا۔انجن کے کرائیوجینک مرحلہ میں ہیلیم کے اخراج کے سبب سال 2019میں چندریان 2میں تاخیر ہوئی تھی۔گگن یان مشن کا مقصد مدار میں انسانوں کو بھیجنے کی اسرو کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے ۔چار خلاباز پہلے ہی گگن یان پروگرام کے حصہ کے طور پر روس میں تربیت پاچکے ہیں۔