ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے اور اس حسن سلوک کی توفیق کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھئے ۔ خدا کے بعد انسان پر سب سے زیادہ حق ماں باپ ہی کا ہے۔ ماں باپ کے حق کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ قرآن پاک میں جگہ جگہ ماں باپ کے حق کو خدا کے حق کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور خدا کی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی شکر گزاری کی تاکید ہے ۔’’ اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ‘‘ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: ’’ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا :کونسا عمل خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ ‘‘ نبی ﷺ نے فرمایا وہ نماز جو وقت پر پڑھی جائے ‘‘ میں نے ( پھر ) پوچھا اس کے بعد کونسا عمل خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا ’’ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک ‘‘۔ نبی ﷺ نے پوچھا ’’ کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے انہوں نے کہا جی ہاں بلکہ ( خدا کا شکر ہے ) دونوں زندہ ہیں ۔ ماں باپ ہی تمہاری جنت ہیں اور ماں باپ ہی دوزخ ۔ یعنی ان کے ساتھ نیک سلوک کر کے تم جنت کے مستحق ہوگے اور ان کے حقوق کو پامال کر کے تم جہنم کا ایندھن بنو گے ۔ والدین کے شکر گزار رہئے ۔ محسن کی شکر گزاری اور احسان مندی شرافت کا اولین تقاضا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے وجود کا محسوس سبب والدین ہیں ۔ پھر والدین ہی کی پرورش اور نگرانی میں ہم پلتے بڑھتے اور شعور کو پہنچتے ہیں اور وہ جس غیرمعمولی قربانی ، بے مثال جاں فشانی اور انتہائی شفقت سے ہماری سرپرستی فرماتے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہمارا سینہ ان کی عقیدت و احسان مندی اور عظمت و محبت سے سرشار ہو اور ہمارے دل کا ریشہ ریشہ ان کا شکر گزار ہو ، یہی وجہ ہے کہ خدا نے اپنی شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ان کی شکر گزاری کی تاکید فرمائی ہے ۔ ماں باپ کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کیجئے اور ان کی مرضی اور مزاج کے خلاف کبھی کوئی ایسی بات نہ کہئے ، جوان کو ناگوار ہو ، بالخصوص بڑھاپے میں جب مزاج کچھ چڑچڑا ہوجاتا ہے اور والدین کچھ ایسے تقاضے ، مطالبے کرنے لگتے ہیں جو توقع کے خلاف ہوتے ہیں ۔ اس وقت بھی ہر بات کو خوشی خوشی برداشت کیجئے اور ا ُن کی بات سے اُکتا کر جواب میں کوئی ایسی بات ہرگز نہ کیجئے جو ان کو ناگوار ہو اور ان کے جذبات کو ٹھیس لگے ۔ دراصل بڑھاپے کی عمر میں بات کی برداشت نہیں رہتی اور کمزوری کے باعث اپنی اہمیت کا احساس بڑھ جاتا ہے ، اسی لئے ذرا ذرا سی بات بھی محسوس ہونے لگتی ہے ، لہذا اس نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے کسی قول و عمل سے ماں باپ کو ناراض ہونے کا موقع نہ دیجئے ۔ یعنی اگر کوئی اپنے خدا کو خوش رکھنا چاہے تو وہ اپنے والدین کو خوش رکھے ، والد کو ناراض کر کے وہ خدا کے غضب کو بھڑکائے گا ۔ دل و جان سے ماں باپ کی خدمت کیجئے ۔ اگر آپ کو خدا نے اس کا موقع دیا ہے تو دراصل یہ اس بات کی توفیق ہے کہ آپ خود کو جنت کا مستحق بناسکیں اور خدا کی خوشنودی حاصل کرسکیں ۔ ماں باپ کی خدمت سے ہی دونوں جہاں کی بھلائی ، سعادت اور عظمت حاصل ہوتی ہے اور آدمی دونوں جہاں کی آفتوں سے محفوظ رہتا ہے ۔ جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کی روزی میں کشادگی ہو ، اس کو چاہئے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے اور صلہ رحمی کرے ۔ وہ آدمی ذلیل ہو ، پھر ذلیل ہو ، پھر ذلیل ہو ، لوگوں نے پوچھا ، ائے خدا کی رسولؐ ! کون آدمی ؟ آپ ؐ نے فرمایا ’’ وہ آدمی جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے کی حالت میں پایا ، دونوں کو پایا ، یا کسی ایک کو … اور پھر ( ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا ۔ جو نیک اولاد بھی ماں باپ پر محبت بھری ایک نظر ڈالتی ہے؟ اس کے بدلے خدا اس کو ایک حج مقبول کا ثواب بخشتا ہے ۔ لوگوں نے پوچھا ائے خدا کے رسولؐ ! اگر کوئی ایک دن میں سو بار اسی طرح رحمت و محبت کی نظر ڈالے ۔ آپؐ نے فرمایا ’’ جی ہاں ! اگر کوئی سو بار ایسا کرے تب بھی ، خدا تمہارے تصور سے بہت بڑا اور ( تنگ دلی جیسے عیبوں سے ) بالکل پاک ہے ۔ ‘‘ ماں باپ کی دل و جان سے اطاعت کیجئے ۔ اگر وہ کچھ زیادتی بھی کررہے ہوں تب بھی خوش دلی سے اطاعت کیجئے اور ان کے عظیم احسانات کو پیش نظر رکھ کر ان کے وہ مطالبے بھی خوشی خوشی پورے کیجئے ، جو آپ کے ذوق اور مزاج پر بوجھ محسوس ہو۔ وہ دین کے خلاف نہ ہوں ۔ والدین کی اطاعت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ ایک شخص میلوں دور سے آتا ہے اور چاہتا ہے کہ نبیؐ کی صحبت میں دین کی سربلندی کیلئے جہاد میں شریک ہو لیکن نبیؐ اس کو لوٹا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں جہاد میں شرکت بھی تم اسی صورت میں کرسکتے ہو جب تمہارے ماں باپ دونوں تمہیں اجازت دیں ۔ ایک زمانہ تھا جب یہ کمزور اور بے بس تھا اور مجھ میں طاقت تھی میں مال دار تھا اور یہ خالی ہاتھ تھا ، میں نے کبھی اس کو اپنی چیز لینے سے نہیں روکا ۔ آج میں کمزور ہوں اور یہ تندرست و قوی ہے ۔ میں خالی ہاتھ ہوں اور یہ مال دار ہے ۔ اب یہ اپنا مال مجھ سے بچا بچا کر رکھتا ہے ۔ ماں باپ اگر غیر مسلم ہوں تب بھی ان کے ساتھ سلوک کیجئے ، ان کا ادب و احترام اور ان کی خدمت برابر کرتے رہئے ۔ البتہ اگر وہ کفر اور شرک کا حکم دیں تو ان کی اطاعت سے انکار کردیجئے۔
٭٭٭٭