انفارمیشن ٹکنالوجی اور دیگر شعبوں میں ملازمتوں کی فراہمی کا آغاز

   

بنگلور، پونے اور حیدرآباد میں تقررات، کورونا وائرس کے بعد صورتحال میں تبدیلی

حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک بھر میں کورونا وائرس وباء کے دوران ملازمتوں سے محروم ہونے والے انفارمیشن ٹکنالوجی ملازمین کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے ملازمین کو اب مواقع حاصل ہونے لگے ہیں اور کئی کمپنیوں کی جانب سے ملک بھر کے جن شہرو ںمیں نوجوانوں کو ملازمتو ںکی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ان میں بنگلورو‘ پونے اور حیدرآباد شامل ہیں۔ مختلف کمپنیو ںکی جانب سے شہر حیدرآباد میں ملازمتوں کی فراہمی کے آغاز کے ساتھ تجربہ کاراور فریشرس کو بھی موقع فراہم کیا جانے لگا ہے ۔ماہرین انفارمیشن ٹکنالوجی کا کہنا ہے کہ گذشتہ 19ماہ کے دوران پیدا شدہ بحران کی صورتحال کے باوجود کئی سرکردہ کمپنیو ںکی جانب سے ملازمین کو ان کی خدمات سے برطرف نہیں کیا گیا تھا لیکن متوسط اور چھوٹی کمپنیو ںکی جانب سے ملازمین کی تعداد میں تخفیف کے اقدامات کئے گئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بے روزگار ہونے کے بعد اب ان کمپنیو ںکی صورتحال تبدیل ہونے لگی ہے اور ملازمین کی مانگ میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ماہرین آئی ٹی شعبہ کے مطابق جاریہ ماہ کی ابتداء سے ہی صورتحال میں تیزی کے ساتھ تبدیلی رونما ہونے لگی ہے اور اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے علاوہ دیگر شعبوں میں آئندہ تین ماہ کے دوران معمول کے حالات بحال ہوجائیں گے اور ملازمین کی مانگ کی رفتار میں مزید تیزی ریکارڈ کی جائے گی۔ سروے کے مطابق بنگلورومیں آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں پائی جانے والی ملازمین کی قلت اور طلب میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ستمبر 2020 سے ستمبر 2021کے دوران 38فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اسی مدت کے دوران پونے میں 22 فیصدکا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ملازمین کی طلب میں اضافہ کئے جانے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں ستمبر 2020 سے ستمبر2021کے دوران 20 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ہندستان کے جن شہرو ںمیں ملازمین کی طلب میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ان میں وڈودرہ ‘ جئے پور اور کولکاتہ شامل ہیں اور ان شہروں میں گذشتہ ایک برس کے دوران ملازمین کی طلب میں اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا بلکہ مانگ میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی جس کی کئی ایک وجوہات بالخصوص ان ہندستانی ریاستو ں میں بیرونی سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی قرار دی جا رہی ہے۔م