انفاق فی سبیل للہ سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے

   


جماعت اسلامی کے اجتماع عام سے اعجازمحی الدین وسیم ، عبد الباری اور ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد کا خطاب
حیدرآباد۔ 4؍ ستمبر ( پریس نوٹ ) اسلام میں نماز اور انفاق فی سبیل اللہ کی بنیادی اہمیت ہے۔ یہ دونوںاسلامی شریعت اسلامی کی اساس ہیں قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ انفاق کا ذکر آیا ہے۔ جولوک اللہ کے راستے میں اپنا دل پسند مال خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس مال میں برکت عطا فرماتا ہے۔ انفاق فی سبیل للہ سے مال گھٹنا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔ جولوگ مال کو گن گن کر رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے سخت انداز میں متنبہّ کیا ہے۔ اللہ کے راستے میں انفاق کرنے سے دل کی سختی ختم ہوجاتی ہے۔ دل کشادہ ہوجاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اعجاز محی الدین وسیم نے آج سید مودودیؒ لکچر ہال میں جماعت اسلامی ہند چارمینار کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع عام میں “انفاق فی سبیل للہ “کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انفاق فی سبیل للہ مومنین کی اہم صفت بتائی گئی ہے۔ مومن کی شخصیت کا تصور انفاق فی سبیل للہ کے بغیر مکمل نہیںہوتا۔ انسان جب مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے تو اس کی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ جناب محمد عبدالباری، معاون سکریٹری شعبہ تربیت، جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ نے درس قرآن دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ایل ایمان کو بار بار انفاق فی سبیل للہ کے لئے ابھارا ہے تا کہ اس کے ذریعہ انسان کے دل میں مال سے محبت نہ رچ بس جائے۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد ، امیر مقامی، جماعت اسلامی ہند چارمینار نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی عبادات اپنے بندوں کے لئے مختص کی ہیں اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے ۔ اسی طرح انفاق سے اللہ کے بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا جذبہ ابھرتا ہے ۔نظام شریعت میں دونوں کی اپنی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے جماعت اسلامی ہند اپنے وابستگان کو انفاق فی سبیل للہ کے لئے وقفے وقفے سے ابھارتی ہے تاکہ دلوں میں محض مال سے محبت پیدا نہ ہوجائے جس سے ایمان بھی خطرے میں پڑجا تا ہے۔ اس موقع ممتاز عالم دین اور کئی کتابوں کے مصنف مولانا سید جلال الدین الدین عمری ؒ ، سابق امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے سانحہ ارتحال پر ان کی دینی ، ملّی، علمی اور تحریکی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی۔ جناب محمد حامد نے نظامت کی۔