نکلس روڈ سے ریالی کی اجازت، سونیا اور راہول گاندھی کیخلاف کارروائی کی مذمت
حیدرآباد۔13۔ جون (سیاست نیوز) سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے طلبی کے خلاف کانگریس نے آج ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا۔ حیدرآباد میں واقع ای ڈی آفس کے روبرو پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ریونت ریڈی کی قیادت میں ہزاروں کارکنوں نے دھرنا منظم کیا ۔ قبل ازیں نکلس روڈ پر واقع مجسمہ اندرا گاندھی سے ریالی کا آغاز ہوا۔ پولیس نے ریالی کی اجازت دی جس کے نتیجہ میں حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکن کسی رکاوٹ کے بغیر ریالی میں شریک ہوئے۔ کانگریس قائدین سیاہ اسکارف پہنے ہوئے تھے اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ریونت ریڈی کے علاوہ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا، رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، پولیٹیکل افیرس کمیٹی کے کنوینر محمد علی شبیر ، ارکان اسمبلی سیتکا ، سریدھر بابو ، جگا ریڈی ، ورکنگ پریسیڈنٹ انجن کمار یادو ، مہیش کمار گوڑ ، پونم پربھاکر اور کانگریس کے مختلف شعبہ جات کے قائدین نے شرکت کی۔ احتجاجی ریالی کے پیش نظر اطراف و اکناف کے علاقوں میں ٹریفک میں خلل پڑا اور پولیس کو ٹریفک کی بحالی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی حکومت انتقامی کارروائی کے تحت سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف ای ڈی کا استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی خاندان نے ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ جدوجہد آزادی سے لے کر آج تک کانگریس قائدین اور گاندھی خاندان نے کئی قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی کے ذریعہ جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 2015 ء میں سبرامنیم سوامی نے شکایت کی تھی جس پر بی جے پی حکومت نے کارروائی کا آغاز کیا۔ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے خطرہ کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے تحقیقاتی ایجنسیوں کو متحرک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کے خلاف کارروائی سے کانگریس کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک میں اور تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی۔ر