ریاض نظام آباد ، جینور اور میدک میں فساد ، نظام آباد کے نام پر تنازعہ
کیا ریاست میں فساد کی تیاری ؟
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ ترقی اور خوشحالی سے ہٹ کر کیا تباہی اور بربادی کی جانب بڑھ رہی ہے ؟ ریاست میں اقتدار بدلنے کے بعد کیا پولیس کا نظریہ اور طریقہ کار بھی بدل گیا ہے ۔ ریاست میں پیش آرہے فرقہ وارانہ واقعات اور بے چینی کے سبب شہریوں میں یہ رجحان پیدا ہوگیا ہے ۔ انکاونٹر فساد اور فرقہ پرستی امن بھائی چارہ اور ترقی کو تباہ کرنے کا سبب بنتی جارہی ہے ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ آئے دن ان واقعات میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ ریاض انکاونٹر ، جینور اور ضلع میدک میں پیش آئے فسادات اور نظام آباد کے نام پر تنازعہ فرقہ پرستوں کو اپنی سازشوں پر عمل کرنے اور سیاسی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مددگار ماحول فراہم کررہا ہے ۔ سابقہ حکومت کی دو میعاد کے عرصہ میں اس قدر تباہی نہیں ہوئی جتنا کہ موجودہ دور حکومت کے دو سالہ دور میں ہوئی ہے ۔ کسی بھی ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن کو ضمانت تصور کیا جاتا ہے اور اس کا سہرا حکومت کو دیا جاتا ہے اور سب سے بڑی ذمہ داری پولیس کی ہوتی ہے ۔ ریاست کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال پیدا ہورہا ہے کہ کیا پولیس بھی حکومت کے ساتھ بدل گئی یا پھر پولیس نہیں چاہتی کہ ریاست میں امن برقرار رہے ؟ شہر میں قتل ، سرقہ ، منشیات اور گانجہ کی روک تھام میں ناکام پولیس پر اب فسادات فرقہ وارانہ سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکامی کے الزامات کا سامنا کررہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی اقلیتوں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے وہ فرقہ پرستی سے غیر محفوظ ہیں ۔ مسلمانوں پر منصوبہ بند طریقہ سے حملہ کرنے والی فرقہ پرست طاقتوں کے شر سے عیسائی برادری بھی محفوظ نہیں ۔ گذشتہ ماہ 25 دسمبر کو ریاست میں ایک اطلاع کے مطابق تقریبا 50 سے زائد مقامات پر عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ان واقعات سے پولیس کٹ پتلی بن چکی ہے ۔ سابقہ حکومت میں آلیر انکاونٹر کے بعد فرقہ وارانہ نوعیت کے ایک درجن سے کم واقعات پورے دو میعاد کے دوران رونما ہوئے لیکن ان دو سالہ دور حکومت میں تلنگانہ مکمل تباہی کے دہانے پر پہونچ چکی ہے ۔ ریاست میں انٹلی جنس نظام کو ناکامی اور پولیس کی چوکسی شک کے دائرے میں آچکی ہے ۔ حالانکہ ماہر تجربہ کار اور باصلاحیت عہدیداروں کی کمی میں اور وہ اعلیٰ منصب پر فائز ہیں ۔ باوجود اس کے تلنگانہ کی خوشحالی کے ڈھانچہ کو تہس نہس کردیا گیا ہے ۔ کل رات پرانا پل کے واقعہ میں پولیس کا رول منہ بولتی تصاویر اور ویڈیوز حیرت کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ شمالی ہند کی ریاستوں کے واقعات کو دہرانے اور یاد تازہ کرنے والے واقعات کے مناظر شہر حیدرآباد میں دیکھے گئے ۔ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں مجالس مقامی اور کارپوریشن کے انتخابات ہونے والے ہیں ۔ جس کے پیش نظر فرقہ پرستوں کے عزائم بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔ ریاست کی تقریبا بڑی میونسپلٹیز اور کارپوریشن میں اقلیتوں کے اثر کو کم کرنے کے لیے فرقہ پرستی کو ہوا دینا ہی واحد راستہ تصور کیا جاتا ہے ۔ سیکولر طاقتوں کو کمزور کرنے کے لیے فرقہ پرستوں کے اس فارمولہ کے لیے سازگار ماحول تیار کیا جانے لگا ہے جس کو ناکام بنانا موجودہ حکومت کے لیے انتہائی اہم ہوجاتا ہے ۔ اولین فرصت میں حکومت کو سوشیل میڈیا ، فیس بک اور دیگر سماجی ذرائع سے پھیلائے جارہے اس زہر افشانی اور ذہن سازی کے ماحول پر روک لگانی ہوگی جس میں اب تک پولیس ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ حکومت کو پولیس کی کارکردگی پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ سابقہ دور حکومت میں فرینڈلی پولیسنگ کے ذریعہ تمام سازشوں اور ناکام بنادیا گیا تھا ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو چھوٹی کارروائیوں پر بڑی تشہیر کو روکتے ہوئے حکومت کے آگے بڑے کارناموں کے ذریعہ اپنا نام روشن کرنے کی ضرورت پر موڑ دینا ہوگا ۔۔ ع