صرف 3 کروڑ 70 لاکھ شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ گمراہ کن اطلاعات کی سرکاری اشاعت: کانگریس
ممبئی : ) مہاراشٹرا کانگریس کے نائب صدر وترجمان ڈاکٹر رتناکر مہاجن نے وزیراعظم اور مرکزی وزیرمالیات کے اس بیان پر کہ ملک کے 125 کروڑ لوگوں میں سے صرف3 کروڑ70 لاکھ لوگ ہی انکم ٹیکس اداکرتے ہیں، سخت تنقید کی ہے اور اسے عوام کو گمراہ کرنے والا بتایا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وزیرمالیات بار بار یہ بات کہتے ہیں کہ ملک کے 125 کروڑ لوگوں میں سے صرف3 کروڑ 70 لاکھ لوگ ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اس تعلق سے چارٹرڈ اکاونٹ وکمپنی سکریٹری آرگنائزیشن کی جانب سے وزیرمالیات کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا ہے جس میں ان کے بیانات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا گیا ہے ۔ سچائی یہ ہے کہ ملک کے سواسوکروڑلوگوں میں سے کل ووٹروں کی تعداد 82 کروڑ ہے ، جن میں سے 75 فیصد یعنی کہ61 کروڑ 50 لاکھ کسان ہیں جنہیں حکومت نے ہی انکم ٹیکس کی ادائیگی سے چھوٹ دی ہوئی ہے ۔ بقیہ بچے 20 کروڑ50 لاکھ لوگ ان میں سے غریبی کی سطح سے زندگی گزارنے والے 24 کروڑ لوگوں نیز سینئر سیٹزن، نہ کمانے والی گھریلو خواتین اور بیروزگار نوجوانوں کو اگر نکال دیا جائے تو صرف 3 کروڑ 75 لاکھ ہی بچتے ہیں جو انکم ٹیکس اداکرسکتے ہیں یا اپنے کمائی کی تفصیلات جمع کرسکتے ہیں۔اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انکم ٹیکس قانون پر عمل درآمد سے محض 5 لاکھ شہری ہی ہیں۔ ان 5لاکھ لوگوں کو انکم ٹیکس ادا کرنے کے دائرے میں کیسے لایا جائے یا انکم ٹیکس کی سہولیات میں کتنی رعایت دی جائے ؟ اس کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے ۔ لیکن حکومت یہ کام نہ کرتے ہوئے دوسروں کے سرالزام منڈھ کر اپنی نااہلی کو چھپارہی ہے ۔