21معاملات میں رپورٹ پیش کرنے 15 دن کی مہلت، کورٹلہ کی جائیداد کے تحفظ کیلئے قمر الدین کی ہدایت
حیدرآباد۔/13 جولائی، ( سیاست نیوز) صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن محمد قمر الدین نے اوقافی جائیدادوں کے مسائل پر آج خصوصی عدالت کا اہتمام کیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ عبدالحمید مختلف اوقافی جائیدادوں کے بارے میں کمیشن کی جانب سے طلب کردہ وضاحتوں کے ساتھ حاضر ہوئے اور بورڈ کے موقف کی وضاحت کی۔ صدر وقف پروٹیکشن کمیٹی کورٹلہ محمد نعیم الدین اور دوسروں نے اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں سے واقف کرایا۔ وقف انسپکٹر کورٹلہ محمد نجم الدین نے جائیدادوں کی موجودہ صورتحال سے کمیشن کو آگاہ کیا۔ کورٹلہ میں اوقافی جائیدادیں غیر مجاز افراد کے قبضہ میں ہیں اور وہ وقف بورڈ کو کرایہ بھی ادا نہیں کررہے ہیں۔ وقف پروٹیکشن کمیٹی کورٹلہ نے اس معاملہ کو سیول کورٹ سے رجوع کیا اور غیر قانونی قابضین کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔ سی ای او وقف بورڈ کو عدالت کے احکامات کی نقل حوالے کی گئی اور خواہش کی گئی کہ وہ اس مقدمہ میں فریق کے طور پر شامل ہوں تاکہ جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے۔ سی ای او وقف بورڈ سے کہا گیا ہے کہ وہ جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدگی سے اقدامات کریں اور جتنا جلد ممکن ہوسکے اس مقدمہ میں شامل ہوں تاکہ قیمتی جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے۔عبدالحمید نے بتایا کہ اقلیتی کمیشن نے تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے وقف بورڈ کو 21 مقدمات رجوع کئے ہیں جو زیر التواء ہیں۔ انہوں نے ان معاملات کی تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے مزید 15 دن کا وقت مانگا۔ انہوں نے صدر نشین اقلیتی کمیشن کو یقین دلایا کہ وہ تمام معاملات میں فوری کارروائی کرتے ہوئے مقررہ وقت میں رپورٹ روانہ کریں گے۔ ایم اے قدیر صدیقی لیگل اڈوائزر اقلیتی کمیشن اس موقع پر موجود تھے۔ صدر نشین اقلیتی کمیشن نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ کمیشن سے جو معاملات بھی رجوع کئے جاتے ہیں ان پر فوری کارروائی کی جائے۔ عبدالحمید چونکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر حال ہی میں فائز ہوئے ہیں لہذا کمیشن نے انہیں مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔