مزید تاخیر پر زیرو سال ممکن، اولیائے طلباء اور سرپرستوں کا حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد: حکومت جاریہ تعلیمی سال کے سالانہ امتحانات منعقد نہ کرے اور اگر کرنا ہی چاہتی ہے تو حکومت کو چاہئے کہ اول تا 9ویں جماعت کے امتحانات آن لائن ہی منعقد کئے جائیں تاکہ طلبہ اور اولیائے طلبہ کو کسی بھی طرح کی پریشانیوں یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ریاست تلنگانہ میں اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ حکومت اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد اس مسئلہ پر کوئی قطعی فیصلہ کرے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں کے باضابطہ آغاز یا امتحانات کے سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہ کئے جانے کے سبب اساتذہ ‘ اسکول انتظامیہ میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر حکومت کی جانب سے جاریہ سال کے دوران امتحانات کے انعقاد کی اجازت فراہم نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں تعلیمی سال کو صفر کرنا پڑسکتا ہے۔ اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی جانب سے حکومت سے کی جانے والی اپیل میں کہا جا رہاہے کہ حکومت کو کم از کم 4ماہ کے لئے اسکولوں کی کشادگی کی اجازت فراہم کرتے ہوئے تعلیمی سال کو جولائی تک وسعت دینے کے اقدامات کرنے ہوں گے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے ایسی کسی تجویز پر غور نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے کیونکہ اگر تعلیمی سال کو ماہ جولائی تک وسعت دی جاتی ہے اور اسکولوں کی 120 ایام کیلئے کشادگی عمل میں لائی جاتی ہے تو وہ انتہائی گرما کا دور ہوگا اور گرما کے دوران باضابطہ تعطیلات فراہم کی جاتی ہیں اسی لئے ان ایام میں اسکول کی کشادگی کے سلسلہ میں کوئی امکانات نہیں ہیں ۔ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کا کہناہے کہ اگر حکومت کی جانب سے سالانہ امتحانات کے انعقاد کی اجازت فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں آن لائن امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے اور طلبہ کو اسکول جانا لازمی رکھنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دسویں جماعت کے امتحانات کے سلسلہ میں فیصلہ کے بعد ہی اول تانویں جماعت کے امتحانات کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کئے گئے تعلیمی کیلنڈرمیں کسی قسم کی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں اور امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں مختلف امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ اولیائے طلبہ کا کہناہے کہ اگر آخری چند یوم کیلئے طلبہ کی حاضری کو لازمی قرار دیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بیشتر طلبہ کو انتظامیہ کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جبکہ اسکول انتظامیہ کا کہناہے کہ سال گذشتہ عین امتحانات سے قبل اسکولوں کو بند کیا گیا تھا اور اگر اس سال بھی امتحانات کا انعقاد عمل میں نہیں لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں طلبہ کا شدید نقصان ہوسکتا ہے۔