اومیش پال قتل کیس: عتیق احمد کا بیٹا اسد انکاؤنٹر میں ہلاک

,

   

ہتھیار ڈالنے سے انکار پر ایس ٹی ایف کی کارروائی‘ شوٹر غلام احمد بھی مارا گیا

لکھنؤ: اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس( ایس ٹی ایف) نے اومیش پال قتل کیس میں کارروائی کرتے ہوئے لیڈر عتیق احمد کے بیٹے اسد اور شوٹر غلام احمد کو ایک انکاونٹر میں ہلاک کر دیا ہے۔ میڈیاکی رپورٹ کے مطابق یوپی ایس ٹی ایف نے جھانسی میں یہ کارروائی کی ہے۔الہ آباد کے اومیش پال قتل کیس میں مطلوب اسد اور غلام پر پانچ پانچ لاکھ روپے کا انعام تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسد اور غلام احمد جھانسی میں ڈی ایس پی نویندو اور ڈی ایس پی ومل کی قیادت والی یو پی ایس ٹی ایف کی ٹیم کے ساتھ تصادم میں مارے گئے۔ دونوں کے قبضہ سے جدید ترین غیر ملکی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق یوپی ایس ٹی ایف نے اسد اور غلام کو جھانسی میں ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا لیکن انہوں نے ایس ٹی ایف کی ٹیم پر فائرنگ شروع کر دی۔ پی ایس ٹی ایف نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو ہلاک کر دیا۔قبل ازیں، اومیش پال قتل معاملہ کی سماعت کے لیے عتیق احمد اور اس کے بھائی کو سخت سیکوری کے درمیان الہ آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عتیق احمد کو گجرات کی سابرمتی جیل سے سڑک کے راستہ الہ آباد لایا گیا جبکہ اس کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف کو بریلی جیل سے یہاں لایا گیا۔جب عتیق کو بیٹے کے انکاؤنٹر کی خبر ملی تو وہ رونے لگا اور اشرف بھی چونک گیا۔ پولیس نے انکاؤنٹر کے بعد اسد کی ایک تصویر بھی جاری کی ہے، جس میں وہ موٹر سائیکل کے قریب مردہ پڑا نظر آرہا ہے۔ اسد احمد کے ساتھ شارپ شوٹر غلام محمد بھی مارا گیا ہے جس کی تصویر بھی دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس نے جمعرات کو جھانسی میں ایک انکاؤنٹر میں مافیا عتیق احمد کے بیٹے اسد اور اس کے ایک ساتھی غلام کو مار گرایا۔ اسپیشل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے بتایا کہ انکاؤنٹر میں مارے گئے ملزمین سے جدید ترین غیر ملکی ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ سال 2005 میں بہوجن سماج پارٹی کے ایم ایل اے راجو پال کے قتل کیس کے اہم گواہ اومیش پال اور ان کے دو سکیورٹی گارڈز کو اس سال 24 فروری کو پریاگ راج کے دھومان گنج علاقے میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ امیش پال کی بیوی جیا پال کی شکایت کی بنیاد پر 25 فروری کو عتیق احمد، اس کے بھائی اشرف، بیوی شائستہ پروین، اسد سمیت دو بیٹوں، شوٹر گڈو مسلم اور غلام اور 9 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔