نئی دہلی۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی زندگی تنگی میں گزری تھی۔ عظیم فلسفی ڈاکٹر کرشنن نے فلسفہ کی پڑھائی اپنی مرضی سے نہیں کی تھی۔ غریبی نے انہیں فلسفہ کی پڑھائی کیلئے مجبور کیا تھا۔ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کا شمار بیسویں صدی کی اہم شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ وہ عظیم فلسفی
(Philospher)
اور سیاستداں رہے۔ بے پناہ صلاحیت کے مالک سروپلی رادھا کرشنن کی زندگی میں ایک دلچسپ واقعہ ہوا تھا۔ اس واقعہ نے ہی ان کی زندگی بدل دی۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ قسمت جو کرتی ہے، اچھے کیلئے کرتی ہے۔ رادھا کرشنن کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ عظیم فلسفی بنے لیکن یہ ان کی خواہش نہیں تھی۔ جس شخص کو پورے ملک نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ جن کے یوم پیدائش کو یوم اساتذہ کے طور پر قرار دیا گیا۔