اُردو کتابوں کی خریداری کے رجحان میں تشویشناک کمی

   

حکومت سے متعدد اعلانات، عمل ندارد، اُردو کی ترقی و فروغ کی ضرورت

حیدرآباد۔29 ستمبر(سیاست نیوز) اردو زبان کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے اور اردو کے کتابوں کی خریدی کے رجحان میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اب قصہ پارینہ ہوچکی ہے لیکن اب اردو زبان میں موجود مواد کتابوں کی دکانوں پر بھی موجود نہیں ہے جبکہ اکثر دینی کتب کے علاوہ اردو زبان میں تاریخ ‘ سفرنامے‘ کہانیاں اور کئی کتابیں دستیاب رہا کرتی تھیں لیکن اب بتدریج ان میں کمی آنے لگی ہے اور اردو کتب کا مواد جادو ٹونا‘ اثرات کا علاج‘ جادو سے بچنے کے طریقہ تک محدود ہونے لگا ہے۔کتب فروشوں کا کہناہے کہ ناشرین وہی کتابیں شائع کر رہے ہیںجن کتابوں کی مانگ ہیں اور تاجرین بھی اپنی دکانات میں وہی کتابیں رکھنے لگے ہیں جن کتابوں کی فروخت ممکن ہے اسی لئے یہ مواد ہر جگہ زیادہ نظر آنے لگا ہے ۔ اردو داں طبقہ کیلئے یہ لمحہ ٔ فکر ہے کیونکہ ان کی آئندہ نسل اردو سے نابلد ہوگی مطلب وہ ادب ‘ زبان اور بیان سے عاری نسل تیار ہوگی اسی لئے اردو والوں کو چاہئے کہ وہ اردو مواد کے فروغ میں اپنا کردار اداکریں ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے اردو زبان کی ترقی کے نام پر متعدد اقدامات کے اعلانات کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود اب بھی اردو کی ترقی و ترویج کے سلسلہ میں اب تک کوئی مثبت پہل سامنے نہیں آئی ہے اور اب اردو کتب کی فروخت میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ اردو زبان کے مستقبل کی سنگین صورتحال کا نوشتۂ دیوار ہے ۔ اس صورتحال میں اردو زبان کے قارئین اور اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے متعلق فکر کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس زوال پذیر دور میں اپنی زبان کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کرتے ہوئے اس با ت کو یقینی بنائیں کہ ہماری آئندہ نسل اس زبان کی حفاظت کی ضامن بن سکے جس زبان نے ہندستانی معاشرہ کو تہذیب و تمدن کے علاوہ ناقابل فراموش روایات سے ہمکنار کرنے میں کئی برسوں تک اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو زبان کے تحفظ کے لئے اگر اردو داں طبقہ کی جانب سے اردو کے مواد کی از سر نو اشاعت عمل میں لانے کے علاوہ اردو کے پروفیشنل کورسس کو روشناس کروانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں زبان کو باقی رکھنے میں مدد ملے گی۔