آئی پی ایس افسران کے تبادلے کیخلاف ممتا بنرجی کو ساری اپوزیشن کی حمایت

   

کلکتہ : آئی پی ایس افسران کے تبادلہ کولے کر مرکزی حکومت اور ممتا بنرجی کے درمیان جاری لڑائی میں ممتا بنرجی کو ملک کے دیگر حصوں سے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں سے حمایت مل رہی ہے ۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجری وال ، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ کے بعد تمل ناڈوکی اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے چیف ایم کے اسٹالن نے ممتا بنرجی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت اپنی خواہشات اور جنون کے ذریعہ آئی پی ایس افسران پر کنٹرول کرنا چاہتی ہے ۔ اسٹالن نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کا مغربی بنگال کے 3 آئی پی ایس افسران کا یک طرفہ تبادلہ کرنے کی ہدایت ریاست کی خودمختاری اور وفاق پر ہے ۔میں وزیر اعظم مودی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس حکم کو واپس لیں ۔ایک دن پہلے ہی چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش گھیل نے کہا کہ میں اس کی مذمت کرتات ہوں اور یہ ریاست کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک کا وفاقی ڈھانچہ ایک بار پھر دائو پر ۔انہوں نے ممتا بنرجی کے ٹوئیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت انڈین پولیس سروس کی ہنگامی دفعات کے صریح غلط استعمال کررہی ہے۔بنگال کے تین آئی پی ایس افسران کو مرکزی حکومت کے ذریعہ سمن پر طلب کئے جانے کے بعدبنرجی نے 17 دسمبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا ریاست کے اعتراض کے باوجود مغربی بنگال میں تعینات آئی پی ایس افسران کو مرکزی حکومت طلب کررہی ہے۔