حیدرآباد :۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( ٹی ایس آر ٹی سی ) کی بسوں میں سفر کرنے والے مسافرین نے الزام عائد کیا کہ کارپوریشن کی جانب سے کوئی سہولتیں اور پانی کا باٹل فراہم نہ کرنے کے باوجود مسافرین پر 15 روپئے زائد چارج کئے جارہے ہیں ۔ راجدھانی بس میں حیدرآباد تا ہنمکنڈہ سفر کرنے والے ایک مسافر کو 248 روپئے کے کرایہ کے لیے 300 روپئے ادا کرنا پڑا کیوں کہ انہیں سہولتوں کے لیے 15 روپئے زائد اور چند اضافی چارجس ادا کرنے پڑے ۔ مسافر کے ٹکٹ کے مطابق ، مسافر نے شہر حیدرآباد سے ہنمکنڈہ تک کے ٹکٹ کے لیے 300 روپئے ادا کئے ۔ اس کرایہ ٹول یوزر فیس 14 روپئے ، پاسنجرسیس 1 روپیہ ، پاسنجر امینیٹی 15 روپئے اور جی ایس ٹی 13 روپئے شامل ہیں ۔ لیکن مسافرین کو کوئی سہولت اور پانی کے باٹلس حاصل نہیں ہوئے ۔ ایک مسافر ونئے نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ بس مسافرین کو سہولتوں اور پانی کے باٹلس کے لیے زائد چارج ادا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے حالانکہ سہولتیں اور پانی کے باٹلس فراہم نہیں کئے جارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن اور چارجنگ پورٹس کام نہیں کررہے تھے اس کے باوجود ہم سے زائد چارجس لیے گئے ۔ بس میں کوئی بھی سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے قاعدہ پر عمل نہیں کررہا تھا ۔ میں اس کی شکایت کنزیومر فورم میں کروں گا ۔ کنزیومر جہدکار امیش کمار نے کہا کہ عوام کو ٹکٹس خریدتے وقت چوکنا رہنا چاہئے کہ آیا جملہ رقم ٹکٹ پر دی گئی قیمت سے میل کھاتی ہے یا نہیں ۔ ٹی ایس آر ٹی سی کو خفیہ چارجس کے ساتھ مسافرین کا استحصال کرنے کی وجوہات بتانا ہوگا ۔ ایک مسافر کی حیثیت سے سے مجھے یہ جاننے کا حق ہے کہ کس چیز کے لیے مجھ سے زائد رقم چارج کی گئی ۔ سرویس کا ذکر نہ کرنا لیکن رقم وصول کرنا استحصال کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہولتوں کی فراہمی کے معاملہ میں وہ بنیادی سہولتیں جیسے چارجنگ پورٹ ، ٹی وی فراہم کرنے میں ناکام ہیں ۔ یہ سرویس کی خامی ہے ۔ ہاں کوئی بھی خفیہ چارجس کو اچھا نہیں سمجھا جائے گا ۔۔