آر ٹی سی ہڑتال کے بارے میں چیف منسٹر کا رویہ باعث حیرت

   

تحریک کے دوران ستائش اور آج مذمت کی جارہی ہے، بھٹی وکرامارکا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 25 اکٹوبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے آر ٹی سی ہڑتال کے بارے میں چیف منسٹر کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضورنگر ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کے بعد سے چیف منسٹر کا لب و لہجہ تبدیل ہوچکا ہے۔ وہ آر ٹی سی ملازمین کے خلاف اہانت آمیز بیانات دے رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ہڑتال ملازمین کا دستوری حق ہے لیکن کے سی آر اس حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوامی تکالیف اور دشواریاں چیف منسٹر کو دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ صرف ایک حضورنگر حلقے کی کامیابی سے رویہ میں تبدیلی باعث حیرت ہے۔ کے سی آر کا حقیقی چہرا عوام میں بے نقاب ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے تحفظ کرنے کے بجائے چیف منسٹر نے آر ٹی سی کو ختم کرنے کا اعلان کیا جس سے 50 ہزار ملازمین کی ملازمتیں خطرے میں پڑچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران آر ٹی سی ملازمین کی ستائش کرتے ہوئے کے سی آر نے جو بیانات دیئے تھے انہیں فراموش کردیا گیا۔ ہڑتال کی یکسوئی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہائی کورٹ کی ہدایات کو حکومت نے نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے اثاثہ جات پر چیف منسٹر کی نظر ہے اور وہ اپنے قریبی افراد میں اثاثہ جات تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔