ایک بار بھی پانچ سالہ پوری میعاد نہ کرپائے
گجویل۔ حلقہ اسمبلی دوباک سے آنجہانی رام لنگا ریڈی نے چار مرتبہ ٹی آر ایس پرچم تلے جیت حاصل کی مگر یک بار بھی رکن اسمبلی کی حیثیت سے پانچ سالہ پوری میعاد نہ کرپاسکے۔ سینئر جرنلسٹ رام لنگا ریڈی 2001 میں ٹی آر ایس پارٹی کے قیام کے بعد سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے مشورے پر پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے علاوہ حصول تلنگانہ کی جدوجہد میں برابر شامل رہنے پر 2004 کے عام انتخابات میں کانگریس اور ٹی آرایس کی مفاہمت میں ٹی آر ایس پارٹی نے رام لنگا ریڈی کو حلقہ دوباک سے اپنا امیدوار بنانے کے علاوہ اس نشست کو حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں ٹی آر ایس اور کانگریس کے اختلافات کی بناء 2008 میں ٹی آر ایس سربراہ کی ہدایت پر تمام ٹی آر ایس ارکان اسمبلی نے اپنے استعفی دے دیئے جس کی بناء 2008 میں ہی صمنی چناؤ منعقد ہونے پر ٹی آر ایس پارٹی نے پھر ایک بار رام لنگا ریڈی کو ٹکٹ دے کر کامیابی حاصل کرلی تھی۔ بعد ازاں ایک سال بعد یعنی 2009 کے عام چناؤ میں پھر ایک بار ٹی آر ایس نے رام لنگا ریڈی کو ہی اپنا امیدوار بنایا مگر کانگریس پارٹی نے تلگودیشم کے سینئر قائد متیم ریڈی کو کانگریس میں شامل کرتے ہوئے حلقہ دوباک سے اپنا امیدوار بنایا جس کی بناء پر رام لنگا ریڈی اور متیم ریڈی میں سخت مقابلہ رہا۔ بالآخر متیم ریڈی نے معمولی اکثریت سے رام لنگا ریڈی کو شکست سے دوچار کیا تھا اور 2014 کے عام انتخابات میں رام لنگا ریڈی نے حلقہ اسمبلی دوباک سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں پانچ سال پورے ہونے نہ پائے کہ وزیر اعلیٰ نے قبل از ایک سال اسمبلی کو 2018 میں تحلیل کردیا تھا جس کی بناء قبل از ایک سال ریاست تلنگانہ میں اسمبلی کے عام انتخابات منعقد ہوئے جس پر حلقہ دوباک کیلئے پھر ایک مرتبہ رام لنگا ریڈی نے بی جے پی امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ یہاں یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ 2014 کے عام چناؤ میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے چار سال مکمل کرلئے اور 2008 کے ضمنی چناؤ میں جیت حاصل کرتے ہوئے ایک سال مکمل کرلئے اور 2014 کے عام چناؤ میں چار سال مکمل کئے اور 2018 کے عام چناؤ میں ایک سال مکمل کئے اور دوماہ قبل اچانک کی ان کی موت واقع ہوگئی ۔ اس طرح رام لنگاریڈی نے چار مرتبہ بھی رکن اسمبلی کی حیثیت سے پورے پانچ سال مکمل نہ کرپاسکے۔