سعودی ولیعہد کی صدر ایران سے ٹیلیفونک گفتگو پر یقین دہانی، جنگ روکنے کی کوششوں کا ایران نے ہمیشہ خیرمقدم کیا
ریاض: 28 جنوری (یو این آئی) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتا ہے ۔ ایران کے خلاف زمین یافضا استعمال ہونے نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ عالمی قانون کے تحت جنگ روکنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور ایران اب بھی جنگ سے بچاؤ کے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں سے خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا، امریکہ کی دھمکیاں اور نفسیاتی حربے خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی فوج کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر اور اس کے ساتھ موجود دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے ۔ یہ بحری بیڑا ایک ایسے وقت میں خطے میں تعینات کیا گیا ہے جب گزشتہ دنوں ایرانی حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔اگرچہ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گئے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ یہ بحری بیڑا ‘علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے ‘۔