اپنی ساکھ کے تحفظ کیلئے عدالت میں پیش ہوا :ٹرمپ

   

نیویارک: امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیر کو اپنے دو بیٹوں کے خلاف سول فراڈ کے مقدمہ کی سماعت کے سلسلے میں نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہوئے، جس سے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں ریپبلکن کے فرنٹ رنر کی کاروباری سلطنت کو خطرہ ہے۔پیر کے مقدمے میں، جج آرتھر اینگورون پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں کہ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں ایرک اور ڈان جونیئر نے کئی سالوں سے ٹرمپ آرگنائزیشن کے رئیل اسٹیٹ اور مالیاتی اثاثوں کی قیمت بڑھا کر فراڈ کیا۔ٹرمپ نے اتوار کی رات دیر گئے کہا تھا کہ وہ پیر کی صبح مقدمے کے آغاز کے لیے حاضر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ کل صبح عدالت جا رہے ہیں تاکہ اپنے نام اور عزت کے لیے لڑوں، یہ سارا معاملہ ایک ڈھونگ ہے،77 سالہ ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹرتھ پر لکھا۔اس دیوانی مقدمے کے علاوہ ٹرمپ کو آنے والے مہینوں میں کئی بڑی فوجداری کارروائیوں کا بھی سامنا ہے۔2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو الٹانے کی کوشش کے الزام میں انہیں 4 مارچ کو واشنگٹن میں ایک وفاقی جج کے سامنے پیش ہونا ہے۔اس کے بعد، ٹرمپ دوبارہ نیویارک کی ریاستی عدالت میں، اس بار ناجائز دولت کے الزامات پر، اور بعد میں فلوریڈا کی ایک وفاقی عدالت میں، جہاں ان پر عہدہ چھوڑنے کے بعد خفیہ دستاویزات کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے کا الزام ہے۔آخر میں، انہیں جارجیا میں ریاستی الزامات کا بھی جواب دینا پڑے گا، جہاں استغاثہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے غیر قانونی طور پر جنوبی ریاست کے 2020 کے انتخابی نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔نیویارک سول کیس میں، اینگورون نے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ، ان کے دو بڑے بیٹوں اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے دیگر ایگزیکٹوز نے ٹیکس کلیکٹرز، قرض دہندگان اور بیمہ کنندگان سے ایک سکیم میں جھوٹ بولا جنہوں نے 2014 اور 2021 کے درمیان اپنی کی جائیدادوں کی قیمت 812 ملین ڈالر سے بڑھا کر 2.2 بلین ڈالر تک ظاہر کی۔