اپنی صلاحیتوں اور ہنر سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا بھی باعث ثواب

   

عثمان نگر شاہین باغ میں ڈاکٹر متین الجبار کمپیوٹر سنٹر میں تقریب تقسیم اسناد ، جناب عامر علی خاں اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ملت اسلامیہ کے لیے اس نازک دور میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے شعبوں میں خود کی صلاحیتوں کا لوہا منوانے آج ہمارے نوجوانوں کا علم کے ساتھ ہنر مند ہونا بھی ضروری ہے ۔ اگر ہم علم سے دور اور ہنر مندی سے فاصلے برقرار رکھتے ہیں تو کسی بھی طرح ترقی نہیں کرسکتے ۔ دین اسلام میں خدمت خلق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے چنانچہ کئی احادیث میں درخت لگانے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ درختوں کو نہ صرف انسانوں بلکہ پرندوں وغیرہ کے لیے بھی فائدہ بخش بنایا جاسکے ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے ڈاکٹر متین الجبار کمپیوٹر اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر اور سیونگ سنٹر کے فارغ التحصیل طلباء وطالبات اور خواتین کے لیے منعقدہ تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کی صدارت سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے کی جب کہ محترمہ فرحت یاسمین ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ اورنگ آباد نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب عامر علی خاں نے ایک حدیث کا مفہوم بیان کیا اور بتایا کہ جب کوئی درخت لگاتا ہے اس پر پھل آتے ہیں اور ان پھلوں کو اگر پرندے بھی کھاتے ہیں تو اس کا ثواب اللہ تعالیٰ اپنے اس بندہ کو عطا کرتا ہے جس نے درخت لگائے ۔ چنانچہ آج سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے چلائے جانے والے کمپیوٹر اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر اور سیونگ سنٹر سے آپ نے اگر کچھ سیکھا ہے اور پھر آپ نے ملازمتیں حاصل کی یا دوسروں کو سکھایا آپ کامیاب ہوئے ہیں تو سمجھئے یہ ہماری کامیابی ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ آپ کو خود اپنی منزل کا تعین کرنا چاہئے ۔ آپ کے سامنے دو امکانات ہیں ایک قائد بننا دوسرا فالور بن کر زندگی گذارنا ۔ اگر آپ فالور بنتے ہیں تو سب کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اور قائد بنتے ہیں تو سب کو آپ کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ۔ اس لیے آپ نے جو کچھ سیکھا وہ دوسروں کو سکھائے لوگ آپ کو فالو کریں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شخصیت سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے ۔ اس موقع پر سنٹر کے انچارج جناب سید حیدر علی ، جناب ظہیر الدین علی خاں مرحوم کے فرزند جناب فخر الدین علی خاں ، بی آر ایس کارپوریٹر محمد مظہر الدین ، سید عبدالستار محمد اعظم اور فیض عام ٹرسٹ کے ارکان عملہ بھی موجود تھے ۔ 40 لڑکے لڑکیوں میں اسناد کی تقسیم عمل میں آئی ۔ سنٹر کے نگران جناب سید حیدر علی نے بتایا کہ اس سنٹر سے جس کا افتتاح 14 فروری 2021 کو عمل میں آیا تھا 202 لڑکے لڑکیوں نے کمپیوٹر کورس سیکھے اور ان میں سے 45 فیصد طلبہ کو امیزان ، بڑے تعلیمی اداروں ، تنظیموں ، ٹراویلنگ پوائنٹس وغیرہ میں ملازمتیں حاصل ہوئیں ۔ جناب افتخار حسین نے جنہیں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی طرح ہمیشہ ملت کی فکر رہتی ہے بتایا کہ اس سنٹر کو ڈاکٹر متین الجبار نے آلات و سامان کی خریدی کیلئے 273659 روپئے پیش کئے تھے جب کہ فیض عام ٹرسٹ نے 400747 اور سیاست ملت فنڈ نے 399408 روپئے یعنی جملہ 10,73,814 روپئے خرچ کئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمپیوٹرس کورس کے 8 بیاچس مکمل ہوئے ہیں جن میں 102 لڑکے اور 101 لڑکیاں جملہ 203 طلبہ شامل ہیں ۔ جب کہ سلائی سنٹر سے 29 طالبات اور خواتین کامیاب ہوئیں ۔ اس موقع پر جناب ظہیر الدین علی خاں کی کمی شدت سے محسوس کی گئی ۔ محترمہ فرحت یاسمین نے اپنے مختصر سے خطاب میں طلباء وطالبات کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مستقبل کو روشن بنانے کیلئے سخت محنت کریں ۔۔